ماہانہ ریڈیو خطاب کی ۱۳۵؍ویں قسط میں وزیراعظم مودی نے ثقافت، آتم نربھر بھارت، توہم پرستی، کھیل کود جیسے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 11:32 AM IST | New Delhi
ماہانہ ریڈیو خطاب کی ۱۳۵؍ویں قسط میں وزیراعظم مودی نے ثقافت، آتم نربھر بھارت، توہم پرستی، کھیل کود جیسے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نےاپنے ماہانہ ریڈیوخطاب کی ۱۳۵؍ویں قسط میں ہندوستانی ثقافت ،آتم نربھر بھارت، توہم پرستی جیسے کئی اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج ہندوستانی ثقافت دنیا کے الگ الگ حصوں تک پہنچ رہی ہے اور ہمارے گیت، موسیقی اور روحانیت کو دنیا بھر کے لوگ جان رہے ہیں اور اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈومینیکن ریپبلک نام کا ایک ملک ہے۔ وہاں ہندوستانیوں کی تعداد قریب۱۰۰؍ ہے شاید اس سے بھی کم ہوگی۔ وہاں اسپینش بولنے والے کچھ لوگوں نے ایک ٹیم بنائی ہے۔ اس ٹیم کا نام ہے، برہم کمل ڈومینیکانا۔ ٹیم کے اراکین مل کر ویدک ادب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ ویدک منتروں کا تلفظ بھی سیکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں توہم پرستی کے متعلق کہا کہ توہم پرستی ہزاروں سال سے انسانی معاشرے میں گھر کر کے بیٹھی ہے۔ توہم پرستی میں ڈوبے لوگ، پھر بنا دلیل کے، بنا سچائی جانے، ایسے فیصلے لینے لگتے ہیں، جن کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ وہیں معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو سائنس، تجربے اور دلیل کی بنیاد پر ان نظریات کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں ایک پرندہ پایا جاتا ہے۔ اس پرندے کا نام ہے ہرگیلا، یہ ایک نایاب پرندہ ہے۔ یہ فطرت کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن آسام کے کچھ علاقوں میں طویل عرصے تک اسے منحوس مانا جاتا تھا۔ لوگ اسے اپنے آس پاس دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی بار ان درختوں کو بھی کاٹ دیا جاتا تھا جن پر ہرگیلا کے گھونسلے بنے ہوتے تھے۔ سوچیے، ایک ایسا پرندہ جو ماحول کی صفائی میں مدد کرتا ہے، وہی ہرگیلا لوگوں کے خوف کا شکار بن گیا تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ اسی دوران ماہر حیاتیات پورنیما دیوی برمن نے یہ سب دیکھا۔ انہوں نے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھے غلط نظریے کو بدلنے کا عزم کیا۔ انہوں نے خواتین سے بات کی، انہوں نے لوگوں کو سائنس کی بنیاد پر سمجھایا، آہستہ آہستہ خواتین اس مہم سے جڑنے لگیں۔ جس پرندے کو کبھی منحوس مان کر بھگایا جاتا تھا، وہی گاؤں کی پہچان بننے لگا۔ مودی نے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات میں اتوار کویہ بھی کہا، ’’میں اکثر کہتا ہوں، جو کھیلتا ہے، وہ کھلتا ہے۔ آج ملک میں ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو کھیل بھی رہے ہیں اور کھل بھی رہے ہیں۔ پہلے کی نسبت اب کہیں زیادہ نوجوان کھیلوں کو کریئر کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ مجھے ناگالینڈ کی دو ایسی کوششوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں، جو بہت دلچسپ ہیں۔ پہلی کوشش ہے ناگالینڈ بیبی لیگ. نام سن کر آپ کو ضرور لگتا ہوگا یہ بہت چھوٹے بچوں کی کوئی عام لیگ ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ پانچ سے۱۰-۱۲؍ سال کی عمر کے چھوٹے چھوٹے بچے، پھول جیسے بچوں کی ایک غیر معمولی لیگ ہے اور ان بچوں کے فٹ بال کھلاڑیوں کی ایک ایسی لیگ ہے، جو ان کی رفتار کو اور صلاحیت کے لیے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے اور ان کی شناخت بھی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگالینڈ میں ایک اور اچھی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کا نام ہے، ناگالینڈ ویمن فٹسال لیگ، ہو سکتا ہے آپ کے لیے یہ فٹسال ایک نیا نام ہوگا، میں آپ کو بتاتا ہوں فٹسال کو انڈور فٹ بال بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک ٹیم میں صرف پانچ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کھیل کا میدان بھی فٹ بال کے میدان سے بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کھلاڑیوں کو تیز فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔