Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ کی تعمیر نو کیس کی منگل یکم جولائی کو سماعت

Updated: June 29, 2026, 12:31 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Andheri

یہ اندھیری ایم آئی ڈی سی کا معاملہ ہے، برسوں سے ٹرسٹیان کوشاں ہیں مگر اب تک حل نہیں نکلا۔

Imam and others are seen outside the remains of the MIDC Madrasa and Mosque. Photo: INN
ایم آئی ڈی سی مدرسہ و مسجد کے بچے ہوئےحصہ کے باہر امام اور دوسرے لوگ نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اندھیری(سعید احمد خان):ایم آئی ڈی سی میں واقع مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلسنت کی تعمیر نو کے تعلق سے یکم جولائی منگل کو شنوائی ہوگی۔ اس تعلق سے ٹرسٹیان برسوں سے کوشاں ہیں مگر اب تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ دوسرے شرپسندوں کی جانب سے بھی مسلسل خلل ڈالا گیا اور یہاں تک کوشش کی گئی کہ کسی صورت یہاں مسجد تعمیر نہ ہوسکے ، اس رخنہ اندازی کا بھی اثر رہا ۔ اس میں ڈیولپر بھی برابر کا شریک رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نہ کسی سبب مسجد کی تعمیر نو التواء کا شکار ہوتی رہی اور آج بھی وہی صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آر ٹی ای کے تحت رہائشی ثبوت دینا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی دستاویز ہے: ہائی کورٹ

اس تعلق سے مذکورہ مدرسہ و مسجد انتظامیہ کمیٹی کے فعال رکن اقبال منیار نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ ڈیولپر اور ایم آئی ڈی سی سے باربار یہ مطالبہ کیا گیا کہ معاہدے کے مطابق جلد سے جلد کام مکمل کیا جائے تاکہ پہلے کی طرح مسجد دوبارہ تعمیر ہوسکے۔ اب جبکہ کئی برس کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی ہے اور یکم جولائی کا عدالت نے وقت مقرر کیا ہے، امید ہے کہ جلد بہتر فیصلہ آئے گا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے تو ڈیولپر اور ایم آئی ڈی سی کی جانب سے سبز باغ دکھائے گئے پھر سازش رچی گئی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ مدرسہ و مسجد کے بچے ہوئے حصے کے پیچھے جو بنیاد ڈالی گئی تھی اسے بھی آگے نہیں بڑھایا گیا۔ ورنہ مسجد کی تعمیر اور پہلے ہوچکی ہوتی۔ بہرحال اب جبکہ سماعت شروع ہورہی ہے، امید ہے کہ تعمیر نو کا راستہ آسان ہوگا اور ہم سب کا برسوں کا انتظار ختم ہوگا۔یاد رہے کہ مدرسہ و مسجد غوثیہ رضویہ اہلسنت کے تعلق۱۵؍ برس سے زائد عرصے سے تعمیر نو کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ مسجد ایم آئی ڈی سی دفتر کے بالکل قریب لب سڑک واقع ہے اور۵۰؍ سال سے زائد قدیم ہے ۔اس کے باوجود شرپسند اپنی شرارت سے باز نہیں آتے اور پولیس بھی لاء اینڈ آرڈر کا حوالہ دے کر شرپسندوں کے تئیں نرم رویہ اپناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK