۲؍ دیگر اہم ملزمین اب بھی مفرور جن کی گرفتاری کیلئے بہار، دہلی، ہریانہ اور مغربی بنگال میں خصوصی ٹیمیں سرگرم، ماسٹر مائنڈ کی تلاش تیز،اتوار کو تعطیلاتی عدالت میں سماعت ہوئی۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 12:24 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
۲؍ دیگر اہم ملزمین اب بھی مفرور جن کی گرفتاری کیلئے بہار، دہلی، ہریانہ اور مغربی بنگال میں خصوصی ٹیمیں سرگرم، ماسٹر مائنڈ کی تلاش تیز،اتوار کو تعطیلاتی عدالت میں سماعت ہوئی۔
مہاراشٹر ٹیچر اہلیتی امتحان (ٹی ای ٹی۲۰۲۶ء) کے پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات اب ایک بڑے بین ریاستی ریکٹ کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ بھیونڈی پولیس کے ذریعہ گرفتار کیے گئے تینوں ملزمین کو اتوار کے روز بھیونڈی ضلع و ایڈیشنل سیشن عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پولیس کی درخواست پر انہیں۶؍جولائی تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ واضح رہے کہ بھیونڈی پولیس نے۲۷؍ جون کو ایک خفیہ ٹریپ آپریشن کے دوران ۳؍ملزموں کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمین کے قبضے سے ٹی ای ٹی امتحان کے چار مختلف سیٹوں کے سوالیہ پرچے برآمد ہوئے تھے، جن میں اصل امتحان کے متعدد سوالات شامل پائے گئے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل ( ایم ایس سی ای) نے امتحان منعقد ہونے سے محض۲۴؍ گھنٹے قبل اسے ملتوی کرنے کا غیرمعمولی فیصلہ کیا تھا۔گرفتار ملزمین کی شناخت راجیو ساؤ(۴۵؍بہار)، آکاش کمار(۳۰؍،بہار) اور دھیرج بلراج سنگھ(۲۸؍ہریانہ)کے طور پر کی گئی ہے۔ عدالت میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ معاملہ محض ۳؍ افراد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم بین ریاستی نیٹ ورک سرگرم ہے، جس کے متعدد اراکین مختلف ریاستوں میں موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں دو دیگر اہم ملزمین اب بھی مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کیلئے بہار، دہلی، ہریانہ اور مغربی بنگال میں خصوصی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یکم جولائی سے بغیر ’ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹ‘ کی گاڑیوں پر جرمانہ عائد ہوگا
عدالت میں کیا ہوا؟
اتوار کو تعطیلاتی عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ضبط شدہ سوالیہ پرچوں کی فارنسک جانچ جاری ہے اور پورے ریکٹ کا پردہ فاش کرنےکیلئے ملزمین سے طویل پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ پولیس نے عدالت سے۱۰؍ دن کی تحویل کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہےکہ مالی لین دین، مفرور ملزمین کی گرفتاری، ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے اور ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔دوسری جانب، ملزم دھیرج سنگھ کے وکیل ستیندر ریڈھو نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی ماضی میں بیریاٹرک(شکم) سرجری ہو چکی ہے اور انہیں مستقل طبی نگہداشت اور ادویات کی ضرورت ہے۔ اس پر پولیس نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ملزم کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آر ٹی ای کے تحت رہائشی ثبوت دینا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی دستاویز ہے: ہائی کورٹ
تحقیقات کا مرکز
اس وقت خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) اور بھیونڈی پولیس کی پوری توجہ مفرور ملزمین کی گرفتاری، مبینہ ماسٹر مائنڈ تک رسائی، مالی لین دین کی تہہ تک پہنچنے اور اس بین ریاستی پرچہ لیک سنڈیکیٹ کا مکمل پردہ فاش کرنے پر مرکوز ہے۔ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم بہار میں خیمہ زن ہے، جبکہ دیگر ٹیمیں دہلی، ہریانہ اور مغربی بنگال میں ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید گرفتاریوں اور اہم انکشافات کا امکان خارج از امکان نہیں۔گرفتار ملزمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں تحقیقات میں یہ حیران کن حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ گرفتار تینوں ملزمین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ راجیو ساؤ نے بی ایس سی، آکاش کمار نے بی کام اور دھیرج کمار نے بی اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔