• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

من کی بات عام لوگوں کی محنت اور خدمت کے جذبے کی تعریف کا موقع: مودی

Updated: October 26, 2026, 12:38 PM IST | Agency | New Delhi

وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’ملک میں ووکل فار لوکل کا جذبہ مضنوب ہورہا ہے اورہندوستانی مصنوعات کو عالمی بازاروں میں نئی پہچان مل رہی ہے‘‘

Prime Minister Narendra Modi. Picture: INN
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این

 وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گزشتہ ۱۲؍ سال کے دوران ریڈیو پر نشر ہونے والا ان کا ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ ملک کے عام لوگوں کی محنت، شجاعت، عزم، وقف اور خدمت کے جذبے کی تعریف کرنے کا موقع رہا ہے۔ وزیراعظم  مودی نے آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کی۱۳۹؍ویں قسط میں اتوار کو کہا کہ۱۲؍ سال پہلے وجے دشمی کے موقع پر شروع ہونے والے اس سفر میں اہل وطن ہم سفر اور رہنما رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ پروگرام ملک کے لوگوں کی کوششوں کو قریب سے جاننے اور ان کے تعاون کو سلام پیش کرنے کی ’تیرتھ یاترا‘ سے کم نہیں ہے۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ۱۲؍ سال میں ملک کے ہر کونے سے ایسے متعدد لوگ سامنے آئے ہیں جن کے غیر معمولی کاموں کی طرف عام طور پر معاشرے کی توجہ نہیں جاتی۔’من کی بات‘ نے ایسی ان گنت سبق آموز کہانیوں کو لوگوں کے سامنے لانے کا کام کیا ہے۔  مودی نے کہا کہ وہ اس پروگرام کے ذریعے ملک کی عوامی طاقت کی آرادھنا کرتے ہیں۔ انہیں اس کے ذریعے ملک کے ہر خاندان سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ انہیں سیکڑوں ایسے پیغامات ملتے ہیں، جن میں لوگ بتاتے ہیں کہ ’من کی بات‘ سن کر انہیں لگتا ہے کہ وزیر اعظم ان کے درمیان، ان کے خاندان میں بیٹھ کر خاندان کے ایک رکن کی طرح ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سامعین کی اپنائیت اور محبت ان کے لیے بہت قیمتی سرمایہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پاسی گھاٹ واٹر پروجیکٹ کیخلا ف پر تشدداحتجاج کے سبب سیکوریٹی سخت

وزیر اعظم نریندر مودی نے من کی بات میں کہا ہے کہ ملک میں `ووکل فار لوکل کا جذبہ مضبوط ہو رہا ہے اور ہندستانی مصنوعات کو عالمی بازاروں میں نئی پہچان مل رہی ہے۔انہوں نے تہواروں کے دوران لوگوں سے مقامی کاریگروں کی بنائی ہوئی مصنوعات کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کی محنت کو حوصلہ ملے گا اور خود کفیل ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے کہا کہ تہواروں کے اس موسم میں خریداری کے دوران لوگ دیسی مصنوعات کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے پورنیہ کا مکھانہ یونان پہنچ رہا ہے، جبکہ کرناٹک کے کلبرگی کی ارہر دال مالدیپ جا رہی ہے۔ اس سے ہندستانی کسانوں کیلئے دنیا کے مختلف بازاروں کے دروازے کھل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مصنوعات کو عالمی پہچان دلانے میں معیار کے ساتھ ساتھ ان کی پیکجنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے مہاراشٹر کے قبائلی برادریوں کی طرف سے تیار کردہ مصنوعات کی پیکجنگ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ شبری نیچرلس کے ذریعے شہد، مہُوا، چرونجی اور بانس سے بنی مصنوعات بازار میں لائی جا رہی ہیں۔ ان مصنوعات کی پیکجنگ میں قبائلی فن کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور اس کے لیے اسے جاپان کا باوقار گڈ ڈیزائن ایوارڈ بھی ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک کا ایک بانس پر مبنی اسٹارٹ اپ بانس اور زرعی باقیات سے پیکجنگ کا سامان تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی جدت طرازی مقامی مصنوعات کو پرکشش بنانے کے ساتھ ان کے بازار کو وسعت دینے میں بھی مددگار ہے۔وزیراعظم مودی نے کھادی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال گاندھی جینتی کے موقع پر ایک ہی دن میں کھادی گرام ادیوگ کی مصنوعات کی فروخت۲۸؍ کروڑ روپے سے زیادہ رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK