ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف )کی ۲؍ کمپنیاں تعینات کی گئیں ۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مظاہروں کو قانون کے دائرے میں رہنا چاہئے۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 12:35 PM IST | Agency | New Delhi
ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف )کی ۲؍ کمپنیاں تعینات کی گئیں ۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ مظاہروں کو قانون کے دائرے میں رہنا چاہئے۔
اروناچل پردیش کے پاسی گھاٹ میں مجوزہ ۱۱؍ ہزار ۲۰۰؍ میگاواٹ کے سیانگ اپر کثیرالمقاصد واٹر پروجیکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد مرکزی حکومت نے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی دو کمپنیاں ریاست میں بھیج دی ہیں۔ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ان خصوصی کمپنیوں میں تقریباً ۲۵۰؍ اہلکار شامل ہیں۔ حکام نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
تشدد سے متاثرہ علاقوں میں سی آر پی ایف کی کئی یونٹ پہلے ہی تعینات ہیں۔ اروناچل پردیش میں مستقل طور پر بھی سی آر پی ایف کی دو سے تین بٹالین تعینات رہتی ہیں۔حکام نے بتایا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے جمعہ سے جاری احتجاج کے دوران مؤثر طریقے سے صورت حال کو سنبھالا اور تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق جھڑپوں کے دوران پولیس اور مرکزی فورسز کے کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ اروناچل پردیش پولیس کے حکام کے مطابق جمعہ کی رات مشرقی سیانگ ضلع میں مشتعل ہجوم نے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے دفتر اور ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھئے:بی جے پی اور آر ایس ایس آج بھی دلتوں کو برابری کا حق نہیں دینا چاہتے: ملکارجن کھرگے
اس کے علاوہ ریاستی بی جے پی صدر سمیت تین سیاسی رہنماؤں کی رہائش گاہوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ریاست کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے کہا کہ پُرامن احتجاج کا حق جمہوریت کا ایک لازمی حصہ ہے، تاہم مظاہروں کو قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے اور ان کے نتیجے میں املاک کو نقصان یا امن و امان میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔انہوں نے پاسی گھاٹ میں پیش آنے والے واقعات کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے سماج کے تمام طبقات سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجوزہ واٹر پروجیکٹ کے خلاف سیانگ، اپر سیانگ اور مشرقی سیانگ اضلاع میں جمعہ کو ۱۲؍ گھنٹے کی بند کی کال دی گئی تھی، جو مجموعی طور پر پُرامن رہی۔ تاہم بند ختم ہونے کے بعد پاسی گھاٹ میں تشدد شروع ہوگیا، جو سنیچر کی صبح۳۰:۳؍ بجے تک جاری رہا۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی شب مجوزہ واٹر پروجیکٹ کے خلاف احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کرلی۔ مبینہ طور پر ’جین زی‘ مظاہرین نے این ایچ پی سی کے دفتر اور پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی، جبکہ دو ارکان اسمبلی اور ریاستی بی جے پی صدر کی رہائش گاہوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد وقفے وقفے سے تقریباً نو گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران پتھراؤ میں ۴۰ ؍سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ تشدد کے بعد مشرقی سیانگ ضلع انتظامیہ نے پاسی گھاٹ، میبو اور رکسِن میں عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندیاں عائد کردیں۔