Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب ہم حکومت کو کوئی مہلت نہیں دی گے: جرنگے

Updated: August 30, 2026, 11:45 AM IST | Jalna

حسب اعلان جالنہ کے انتراولی سراتی میں مراٹھا کارکن کی بھوک ہڑتال شروع، اس احتجاج کو مراٹھا ریزرویشن کی آخری لڑائی قرار دیا۔

Manoj Jarange addressing the media at the Antravali Sarati. Photo: INN
منوج جرنگے انتراولی سراتی میں میڈیا سےخطاب کر تے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

حسب اعلان مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے نے جالنہ میں واقع اپنے گائوں انتراولی سراتی میں اپنی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ’’ اب ہم حکومت کو کوئی موقع نہیں دیں گے۔ حکومت، ابھی کرتے ہیں، بتاتے ہیں کہہ کر وقت ضائع نہ کرے۔ فوری طور پر ۵۸؍ لاکھ کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ ریزرویشن کی لڑائی ہے اب ہم حکومت کو اور وقت نہیں دیں گے۔ مراٹھا سماج کے تمام لوگ گھروں سے باہر نکلیں اور اس لڑائی میں شامل ہوں۔ 
یاد رہے کہ منوج جرنگے نے ۲۰۲۵ء میں ممبئی کے آزاد میدان پر بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حیدر آباد گزٹ میں جن مراٹھوں کا نام درج ہے انہیں کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ منوج جرنگے کے دعوے کے مطابق ریاست بھر میں تحقیقات کرنے کے بعد ایسے ۵۸؍ لاکھ لوگوں کے نام سامنے آئے جنہیں کنبی سرٹیفکیٹ دیا جانا چاہئے۔ سرکاری حکم کے مطابق تحصیل داروں نے سرٹیفکیٹ جاری بھی کئے لیکن کاسٹ ویلڈیٹی کمیٹی نے ان میں سے بیشتر کے سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیئے۔ اس پر منوج جرنگے ناراض ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ ۲۹؍ اگست سے انتراولی سراتی میں بھو ک ہڑتال پر بیٹھیں گے اور اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو ممبئی کا رخ کریں گے۔ اپنے اعلان کے مطابق سنیچر سے انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انہدامی کارروئی کے دوران بی جے پی لیڈر پر حملہ

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے منوج جرنگے نے کہا ’’حیدر آباد گزٹ کے مطابق مراٹھواڑہ میں مراٹھا سماج کے باشندوں کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کام پوری رفتار کے ساتھ شروع کیا جائے۔ اسی اوندھ۔ پونے، ممبئی گورنمنٹ اور ستارا گزٹ کے تعلق سے حکومت کے جی آر پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ شندے کمیٹی نے جن ۵۸؍ لاکھ افراد کے ریکارڈ ڈھونڈ نکالے ہیں انہیں منسوخ کرنے یا نظر انداز کرنے کی حکومت ہرگز نہ کرے۔ ان سب کو فوری طور پر سرٹیفکیٹ دیئے جائیں۔ ‘‘ اتنا ہی نہیں منوج جرنگے نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ’’ مراٹھا تحریک کے دوران جن لوگوں پر کیس درج کئے گئے ہیں ان سارے کیس کو حکومت واپس لے۔ جن لوگوں کو مراٹھا تحریک کے دوران جان گنوانی پڑی ان کے اہل خانہ کو معاوضہ دے اور گھر میں سے کسی ایک کو سرکاری نوکری دے۔ ساتھ ہی معاشی طور پر پسماندہ زمرے کے لوگوں کی جو رقم باقی ہے اسے فوراً ادا کیا جائے۔ جرنگے نے اپنے سماج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’مراٹھا سماج اب حکومت کے بھروسے نہ بیٹھا رہے اپنا سماج ہی اپنی بنیاد ہے۔ ہم اپنی فتح سے بہت قریب ہیں۔ اس لئے گھروں سے باہر نکلیں اور اس لڑائی میں شامل ہوں۔ ‘‘ 
اس موقع پر پولیس نے اتراوالی سراتی کو چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو گائوں کے آس پاس تعینات کیا گیا ہے۔ جالنہ کے راستوں پر بھی پولیس کا پہرہ ہے۔ مراٹھا سماج سے تعلق رکھنے والے افراد منوج جرنگے کی حمایت کیلئے بڑی تعداد میں انتراولی سراتی کا رخ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جرنگے کی بھوک ہڑتال کے خلاف او بی سی سماج کی جانب سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ نوجوان او بی سی کارکن لکشمن ہاکے نے اعلان کیا ہے کہ جرنگے نے ممبئی میں احتجاج کیا تو وہ بھی اپنے سماج کے لوگوں کے ساتھ ممبئی پہنچ کر دھرنا دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس نے الرٹ جاری کر دیا ہے اور سیکوریٹی سخت کر دی ہے۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK