Inquilab Logo Happiest Places to Work

انہدامی کارروئی کے دوران بی جے پی لیڈر پر حملہ

Updated: August 29, 2026, 2:15 PM IST | Agency | Ahmednagar

پارٹی کے احمد نگر ضلع نائب صدر رشی کیش شیٹے ہاکرس کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں اور کارروائی کے دوران موقع پر بھی موجود تھے۔

Rishikesh Shete was attacked after his car was chased. Picture: Agency
رشی کیش شیٹے کی گاڑی کا پیچھا کرکے ان پر حملہ کیا گیا۔ تصویر : ایجنسی

بی جے پی کے ضلع نائب صدر رشی کیش شیٹے پر جمعرات کو احمد نگر کے نیواسا علاقے میں جاری انہدامی کارروائی کے دوران  ہاکرس نے حملہ کر دیا۔ پولیس کو انہیں بچا کر وہاں سے نکالنا پڑا۔ اس معاملے میں تقریباً ۱۰۰؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ جبکہ ۷؍ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق  رشی کیش شیٹے ہاکرس کے خلاف شکایت درج کروا چکے تھے اور مذکورہ علاقے سے تمام گاڑی اور پھیری والوں کو ہٹانا چاہتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل یروشلم کی سڑکوں، تاریخی عمارتوں کے عربی نام عبرانی ناموں سے بدل رہا ہے

اطلاع کے مطابق احمد نگر کے نیواسا علاقے میں گیانیشور مندر کی طرف جانے والی سڑک پر کئی خوانچہ فروش اپنی دکان لگاتے ہیں جن میںبیشتر پھل بیچتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے بی جے پی کے ضلع نائب صدررشی کیش شیٹے نے ان خوانچہ فروشوں (ہاکرس) کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے نگر پنچایت میں شکایت درج کروائی تھی کہ ان ہاکرس کو یہاں سے ہٹایا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور راہ گیروںکو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی شکایت کی بنیاد پر نگر پنچایت نے نیواسا علاقے میں ہاکرس کے خلاف مہم شروع کی۔ جمعرات کو تقریباً صبح ۹؍ بجے انہدامی دستہ موقع پر پہنچا اور اس نے وہاں موجود ہاکرس کی گاڑیوں کو ہٹانا شروع کیا۔ اسی دوران ہاکرس اور سرکاری عملے کے درمیان بحث ہو گئی جس نے شدت اختیار کر لی۔ اسی وقت نگرپنچایت کی گاڑیوں کے قافلے کے پیچھے رشی کیش شیٹے کی گاڑی نظر آئی جس میں وہ خود بیٹھے ہوئے تھے۔ ہاکرس نے سمجھا کہ شیٹے بھی نگرپنچایت والوں کے ساتھ ہیں اور وہی کارروائی کی خاطر انہدامی دستے کو لے کر آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اشوک اوئیکے کے استعفے کے مطالبے میں شدت

انہوں نے شیٹے کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ ان کی گاڑی کے شیشے توڑے اور انہیں باہر نکال کر پیٹنے لگے۔ پولیس کے مطابق دوچار نہیں بلکہ تقریباً ۱۰۰؍ کی تعداد میں تھے ۔ ان میں ہاکرس کے علاوہ کچھ عام شہری بھی تھے۔ لہٰذا پولیس کو اضافی فورس بلوانی پڑی اور کسی طرح شیٹے کو پولیس نے اپنے حصار میں وہاں سے نکالا۔  اہم بات یہ ہے کہ بھیڑ نے نگر پنچایت کے سی ای او اور پولیس افسران پر بھی حملے کی کوشش کی۔  اطلاع کے مطابق شیٹے پر چاقو سے بھی حملہ کیا گیا ہے حالانکہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس جب شیٹے کو گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے لے جانے لگی تو حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کا پیچھا کیا اور جہاں انہیں اتارا گیا وہاں پہنچ کر بھی حملے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے کسی طرح ان لوگوں کو منتشر کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: آن لائن کوچنگ کے فیصلے پر کانگریس نے سوال قائم کئے

اطلاع کے مطابق پولیس نے ۷؍ افراد کو گرفتار کیاہے جبکہ ۱۰۰؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔فی الحال گرفتار افراد کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔ پولیس نے علاقے میں بڑی تعداد میں فورس تعینات کردی ہے۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر توجہ نہ دیں اور کوئی بھی مشتبہ معاملہ سامنے آنے پر یا کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا ہونے پر پولیس سے رابطہ کریں۔  قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ یاد رہے کہ احمد نگر گزشتہ کچھ عرصے میں مسلسل سرخیوں میں رہا ہے۔ یہاں ہندوتوا وادی لیڈروں کی جانب سے  دو فرقوں میں منافرت پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ کبھی ایک مخصوص طبقے کی دکانوں سے خریداری نہ کرنے کی اپیل جاری کی جاتی ہے تو کبھی غیر قانونی تعمیرات یا تجائوزات کے نام پر انہدامی کارروائی کی مہم چھیڑی جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK