جی آر جاری ہونے کے باوجود کنبی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کئے جا رہے ہیں، جواباً اوبی سی سماج کی جانب سے بھی احتجاج کا انتباہ
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 10:36 PM IST | Jalna
جی آر جاری ہونے کے باوجود کنبی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کئے جا رہے ہیں، جواباً اوبی سی سماج کی جانب سے بھی احتجاج کا انتباہ
مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے ایک بار پھر احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ ریزرویشن کے تعلق سے منوج جرنگےکےگائوں انتروالی سراتی میں منعقدہ میٹنگ کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ وہ ۳۰؍ مئی کو بھوک ہڑتال کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال انہوں نے ممبئی کے آزاد میدان پر بھوک ہڑتال کی تھی جسکے بعد حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مراٹھا باشندوں کو حیدر آباد گزٹ کے مطابق کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا ، اب جرنگے کا کہنا ہے کہ ۱۰؍ ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس حکم پر ٹھیک سے عمل نہیں ہو رہا ہے ۔
مراٹھا کارکن نے کہا ’’ مجھے واقعی آج اپنی ایمانداری کا پھل ملا ہے۔ آج میرا دل بھرآیا۔ میں بہت خوش ہوں۔ ہم ۳؍ سال سے ریزرویشن کیلئے لڑ رہے ہیں۔ اب تک، ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے، لیکن کچھ رہ گیا ہے ۔جب سے ہمارے بچے افسر بننے لگے ہیں، حکومت ہم سے جلنے (حسد کرنے) لگی ہے۔ انہوں نے کہا ’’مراٹھوں کے سامنے کسی کی ہوشیاری نہیں چلتی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ معاشرے میں اتنی نفرت کیوں ہے؟ کیا بی جے پی میں جو مراٹھا ہیں انہیں ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہے؟‘‘ جرنگے کے مطابق ممبئی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم کب واپس آؤ گے؟ ممبئی کے لوگ ہم سے توقع کرنے لگے ہیں۔ یہ احتجاج پرامن ہو گا لیکن ایسا ہوگا کہ فرنویس صاحب کو ہر جگہ مراٹھا نظر آئیں گے۔‘‘ جرنگے نے واضح کیا کہ ’’میں فرنویس صاحب پر الزام نہیں لگاتا، آپ نے حیدرآباد جی آر جاری کیا، پھر آپ نے سرٹیفکیٹ کو کیوں روکا، حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے حیدرآباد گزٹ کے مطابق سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے منع کیا ہے۔جبکہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ۳۰۸؍ سرٹیفکیٹ جاری کئےگئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ حیدرآباد گزٹ کو نافذ کیا گیا ہے۔ ہمیں سرٹیفکیٹ دیں ورنہ بھیانک احتجاج ہوگا۔‘‘ یاد رہے کہ گزشتہ سال حکومت نے منوج جرنگے کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا تھا کہ حیدر آباد گزٹ میں جن مراٹھوں کے نام بطور کنبی درج ہیں انہیں کنبی سرٹیفکیٹ دیا جائے۔ کنبی سرٹیفکیٹ جاری بھی کیا گیا لیکن جیسا کہ منوج جرنگے کہہ رہے ہیں اب تک صرف ۳۰۸؍ لوگوں کو کنبی سرٹیفکیٹ ملا ہے۔ لہٰذا اب انہوں نے دوبارہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
ادھر منوج جرنگے کے اعلان کے ساتھ او بی سی سماج کے بھی کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ مشہور او بی سی لیڈر ببن رائو تائیڑے نے اشارہ دیا ہے کہ او بی سی سماج بھی احتجاج کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا ’’ منوج جرنگے نے جو مطالبات کئے تھے حکومت نے انہیں قبول کر لیا تھا اور جی آر بھی جاری کر دیا تھا۔ جرنگے نے جی آر پڑھ کر اس پر رضا مندی بھی ظاہر کی تھی ۔ گلال اڑا کر جشن بھی منایا تھا۔ پھر اب اسی معاملے پر دوبارہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ تائیڑے نے کہا ’’ اگر وہ کسی نئے مطالبہ کیلئے بھوک ہڑتال کرنا چاہتے ہوں تو الگ بات ہے لیکن اسی مطالبے کیلئے دوبارہ احتجاج کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ‘‘ او بی سی لیڈر نے یاد دلایا کہ ( مراٹھا ریزرویشن کا جی آر نکالتے وقت) حکومت نے او بی سی سماج کو بھی کچھ زبان دی تھی۔ اگر حکومت نے اس کا پاس نہیں رکھا تو او بی سی سماج بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کرے گا۔ ہم بھی سڑکوں پر اتریں گے۔‘‘ ببن تائیڑے نے واضح کیا کہ۱۹۹۴ء میں پسماندہ طبقات کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے سرٹیفکیٹ پر ذات کے زمرے میں کنبی مراٹھا درج ہے ۔ انہیں کنبی تسلیم کرتے ہوئے او بی سی سرٹیفکیٹ جاری کیا جا ئے۔ اس کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرتا ‘‘ انہوں نےکہا ’’ لیکن جن لوگوں کی ذات کے زمرے میں صرف مراٹھا لکھا ہوا ہے انہیں اگر او بی سی سماج میں آنا ہے تو اس کیلئے پسماندہ طبقات کمیشن سے حکم نامہ لانا ہوگا ۔ اب تک ۷؍ مرتبہ پسماندہ طبقات کمیشن کی کمیٹیاں بن چکی ہیں اور تحقیق ہو چکی ہے لیکن کسی نے بھی ایسی سفارش نہیں کی لہٰذا مراٹھا سماج کو ۱۹۹۴ء کے حکم نامے کے مطابق او بی سی سماج میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘