Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں ناراضگی

Updated: May 16, 2026, 3:37 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ممبئی میں بس ،ٹیکسی ،رکشا کے کرایوں، ٹرانسپورٹ خدمات اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑنے کاخدشہ،صارفین کےمطابق مہنگائی روزبروز بڑھ رہی ہےلیکن آمدنی اور تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے سےگزر بسر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

Photo: INN
تسویر: آئی این این

مرکزی حکومت کی جانب سے جمعہ کو پورے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر ۳؍ روپے فی لیٹر اضافے کااعلان کیا گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کے ساتھ سی این جی کی قیمت میں بھی۲؍ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس اقدام سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور گھریلو بجٹ کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے ۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ممبئی میں نقل و حمل کے کرایوں،ٹرانسپورٹ خدمات اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑنے خدشہ ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ عوام کا کہنا ہےکہ حکومت آمدنی اور تنخواہ تو نہیں بڑھا رہی ہے، صرف مہنگائی بڑھ رہی ہے ایسے میں گزر بسر کرنا مشکل ہو جائے گا ۔
ممبئی میں ایندھن کے دام کیا ہیں؟
واضح رہے کہ ممبئی میں پیٹرول کی قیمت ۳؍روپے ۱۴؍پیسے کے اضافے کے ساتھ ۱۰۶ء۶۸؍ روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ۳ء۱۱؍ روپے کے اضافے سے ۹۳ء۱۴؍ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس اضافے سے لاکھوں یومیہ مسافروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، آٹورکشا چلانے والے اور مالیاتی دارالحکومت میں نقل و حمل پر انحصار کرنے والے چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔ نظرثانی شدہ نرخوں کے نافذ ہونے کے فوراً بعد، ممبئی بھر کے پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل بھروانے کیلئے اکٹھا ہونے والے صارفین نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہو ئے کہاکہ محدود وسائل اور آمدنی میں زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گا۔ کاروباری مندی دور ہو رہی ہے نہ تنخواہیں بڑھائی جا رہی ہیں، صرف مہنگائی بڑھ رہی ہے ایسے میں عام لوگوں کیلئے زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے ،چنانچہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ پریشانی بڑھانے والا ہے ۔  
صارفین کا دردزبان پر آیا 
ممبئی سینٹرل پر واقع ایک پیٹرول پمپ پر ایندھن بھروانے والے محمد عمران نے نمائندہ انقلاب سے بات چیت کے درمیان کہا کہ ’’پیٹرول پہلے ہی۱۰۳؍روپے فی لیٹر تھا، جو ہمارے لئے مہنگا تھا۔ اب اس میں مزید ۳؍روپے کا اضافہ ہوگیا ہے ، جس سے مالی بوجھ بڑھے گا جبکہ میری تنخوا ہ میں گزشتہ ۳؍سال سے اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ محدود تنخواہ میں مہنگائی کے دور میں بنیادی ضروریات پوری کرنے میں پہلے سے دشواری ہورہی ہے ۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ضرورت کی ساری اشیاءمزید مہنگی ہوجائیں گی ، جس کی مار بھی جھیلنا ہے ۔‘‘
مورلینڈروڈ کے ابوبرکات شیخ کے مطابق ’’ معاشی مندی اپنے عروج پر ہے ۔

یہ بھی پڑھئے : گھاٹکوپر: پان کی دکان سے منشیات فروشی، دکان پر بلڈوزر کارروائی

ملک کے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے پریشان ہیں ۔ روزگار کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر رہا ہے ۔ ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے عام انسان کی مشکلیں بڑھ جائیں گی۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کےساتھ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہونا یقینی ہے ۔ اس سے گھر کابجٹ بری طرح متاثرہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو اپنی جانب سے سہولت فراہم کرے تاکہ عام لوگوں کو زندگی بسر کرنے میں آسانی ہو۔‘‘ ایک صارف نے بتایا کہ ’’ میرے دو بچے ہیں، ان کے علاوہ مجھے اپنے کام کیلئے روزانہ موٹر سائیکل سے جانا ہوتاہے ۔ مجھے روزانہ ۲؍لیٹر پیٹرول کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر ۳؍روپے کے اضافے کا مطلب مہینے میں ۲۰۰؍روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا ہے ۔ اس اضافی مالی بوجھ سےبچنےکاکوئی راستہ نہیں ہے۔ حکومت کا فیصلہ عوام کے حق میں نہیں ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK