• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہاں کی کئی مساجد ایک صدی سے زائدعرصہ پرانی ہیں

Updated: September 10, 2026, 11:03 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

سنّی بڑی مسجد ۱۲۷؍ سال قبل قائم کی گئی تھی۔ عرب مسجدکا قیام ۱۹۰۰ء اور جمیل مسجد کا ۱۹۱۹ء میں عمل میں آیا تھا۔ جونی مسجد بھی ۱۰۰؍ سال پرانی ہے۔ مومن پورہ جامع مسجد اہل حدیث ۱۹۷۱ء میں بن کر تیار ہوئی تھی۔

The Sunni Grand Mosque is an architectural masterpiece and quite spacious. Photo: Inquilab
سنّی بڑی مسجد فن تعمیر کا شاہکار اور کافی کشادہ ہے۔ تصویر: انقلاب

مومن پورہ اور مدن پورہ کی ۵؍ ایسی قدیم مساجد کی مختصر تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے جن کے قیام کو ۱۰۰؍ سا ل سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ۔ برسوں سے ان مساجد میں نماز ادا کرنے کے باوجود کبھی ہمارےذہن میںیہ خیال نہیں گزرا کہ یہ ایسی تاریخی مساجد ہیں جن کے قیام کو ایک صدی مکمل ہوچکی ہے۔ 

مومن پورہ اہل حدیث جامع مسجد

جامع مسجد اہل حدیث (مومن پورہ) بائیکلہ کی بنیاد عبداللہ عرف جاؤمیاںنے ڈالی۔ ان کا آبائی وطن الہٰ آباد تھا لیکن انہوں نے دعوت و تبلیغ کے لئے مغربی بنگال کا انتخاب کیا اور کافی عرصہ تک وہاں دعوت وتبلیغ کی خدمات انجام دینے کے بعد ممبئی کا رخ کیا۔ کچھ عرصہ ڈونگری میں مقیم رہے، اس کے بعد وہ ۱۸۶۰ء میں بائیکلہ آگئے۔ یہاں انہوں نے جھوپڑے کی شکل میں  مسجد تعمیر کی۔ رفتہ رفتہ افراد جماعت کی مالی حالت بہتر ہو گئی تو انہوں نے باہم تعاون سے مسجد کو ایک منزلہ بنایا۔ ۱۹۲۱ء میں بامبے ہائی کورٹ نے احمد عبدالستار فیت والااور عبدالرحمٰن ابراہیم فیت والا کو مسجد کا متولی بنانے کی منظوری دی۔نمازیوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافے کی وجہ سے مسجد تنگ ہونے لگی تو مولانا مختار احمد ندویؒ  اور جماعت کے مخیر حضرات اور محلے کے پیر و جوان مرد و عورت کے بھرپور تعاون سے ۱۵؍ فروری ۱۹۷۰ءکو تعمیرِ نو کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ۲۱؍ نومبر ۱۹۷۱ءکو شاندار مسجد بن کر تیار ہوئی جس میں آج بڑی تعداد میں بندگان خدا سر بسجود ہوتے ہیں۔

عبداللہ جاؤ میاںنے ہی بنگالی پورہ (گھیلا بائی ، گوشت بازار) مسجد بھی تعمیرکی تھی۔ یہ تفصیلات مسجد کے سابق ٹرسٹی مولانا عبدالجلیل انصاری نے نمائندۂ انقلاب کو مہیا کرائیں۔

سنّی بڑی مسجد 

سنّی بڑی مسجد ۱۳۲۱ہجری میں۱۲۷؍سال قبل قائم کی گئی۔ اسے  حاجی بن آدم صدیق نے قائم کیا۔ ان کے نام کا کتبہ اشعار کے ساتھ مسجد کی دیوار پرکَندہ ہے۔ گراؤنڈ پلس وَن یہ مسجد فن تعمیر کا شاہکار ہونے کے ساتھ کافی کشادہ ہے۔ یہی وہ مسجدہے جس کا صحن بھی وسیع ہے۔ مدن پورہ کی ایک پہچان یہ شاندار مسجد بھی ہے۔سنّی بڑی  مسجد سے متصل حصہ جہاں دارالعلوم حاجی آدم صدیق چلایا جارہا ہے اورمسجد کے اندرونی وبیرونی اور بالائی منزل پرمجموعی طورپربیک وقت تقریباً ۵؍ ہزارمصلیان نمازادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد میں ۵۰؍ سال سے زائد  عرصے تک امامت و خطابت کے فرائض مولانا منصور علی خان (مرحوم) نے انجام دیئے۔یہ تفصیلات مسجد کے خزانچی اقبال شمس الدین انصاری نے مہیا کرائیں۔

عرب مسجد

عرب مسجد (مولانا آزادروڈ ) اپنی خوبصورتی اور کشادگی کے اعتبار سےالگ شناخت رکھتی ہے۔ مسجد سے متعلق دستاویزسے حاصل ہونے والی ایک تحریر میںیہ درج ہے کہ سن ۱۹۰۰ء سے پہلے (۱۲۶؍سال قبل ) کی بات ہے کہ مدن پورہ آگری پاڑہ میں ایک عرب عبدالرحمٰن سکونت پذیر تھے، جن کی اپنی ایک چھوٹی سی جائیداد تھی۔ سات راستہ جیکب سرکل سے لے کر ناگپاڑہ تک، بائیکلہ اہل حدیث مسجد اور مدن پورہ کی بڑی مسجد کے علاوہ یہاں اور کوئی مسجد نہ تھی جس کی وجہ سے اس حلقے کے مسلمانوں کو اکثر و بیشتر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرب و جوار میں کوئی خاص آبادی نہ تھی بلکہ یہ علاقہ ویران نظر آتا تھا۔ رات کے وقت روشنی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بڑی پریشانی ہوتی تھی، تاریکی اور کیڑے مکوڑوں کے خوف سے لوگ باہر جانا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ عبدالرحمٰن صاحب نے مسلمانوں کی سہولت کے لئے مسجد کے لئے اپنی زمین وقف کی جو عرب مسجد سے موسوم ہے۔ نقشے میں بھی وہی پرانی مسجد کی جگہ ہے، اس پر ایک بوسیدہ سا چھپرا تھا۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ مسجد کی تعمیر و توسیع کی گئی۔ یہ تفصیلات مسجد کے ٹرسٹی رفیق احمد انصاری نے بتائیں۔

جونی مسجد 

مدن پورہ (سانکلی اسٹریٹ )کی جونی مسجد بھی بہت قدیم ہے۔ اس کی تعمیر کو بھی ۱۰۰؍سال سےزائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے ۔ جونی مسجد کمپاؤنڈ میں کھتری خاندان رہتا ہے، اسی خاندان کے بزرگوں نے اس وقت جونی مسجد کیلئے زمین وقف کی تھی۔ مدن پورہ کی معروف شخصیت یٰسین انصاری کا خاندان طویل عرصے تک ٹرسٹ کی ذمہ داری سنبھالتا رہا۔ موجودہ امام مولانا محمد ایوب برکاتی ہیں۔ مسجد کی نگراں کمیٹی میں شامل خالد سلطان شیخ نے ان تفصیلات سےآگاہ کروایا۔

جمیل مسجد

مدن پورہ کی قدیم جمیل مسجد کا قیام ۱۹۱۹ء (۱۰۷؍ سال قبل) عمل میں آیا۔ یہ مسجد انجمن مفیدالیتٰمیٰ ٹرسٹ کے زیرنگرانی ہے ۔اس مسجد کے قائم کرنے والوں میں مدن پورہ کی اہم شخصیات عمر رجب(سابق رکن اسمبلی)، بدلو رنگاری، رمضان سیٹھ ، عثمان سیٹھ اور یعقوب ہوٹل والے وغیرہ شامل تھیں۔ ابتداء میں مسجد چھپرے کی تھی۔ اس کے بعد بتدریج تعمیر وترقی ہوتی رہی۔ اردو ٹائمزکے ایڈیٹر حنیف اعجاز (مرحوم ) کی کاوشیں بھی اس کارِخیر میں شامل رہیں۔ انجمن مفیدالیتٰمیٰ ٹرسٹ ۱۹۴۳ء میں رجسٹرڈ ہوا، اس کے  تمام دستاویزات محفوظ ہیں۔ جمیل مسجد میں طویل عرصے تک مولانا آدم (مرحوم) امامت وخطابت کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ ٹرسٹ کے صدر طاہر اشرفی نے ان تفصیلات سے انقلاب کو آگاہ کرایا۔ ان مساجد کے علاوہ بھی اس علاقے میں کئی اور مساجد ہیں جوقدیم ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK