یتیم خانہ و مدرسہ انجمن خیرالاسلام کا قیام ۱۹۲۷ ء میں یتیموں کی تعلیم و فلاح کیلئے عمل میں آیا تھا۔ محمد ادریس محلہ دار نے ۶؍ یتیم طلباء کے ساتھ بابو جیم کے دواخانہ، مورلینڈ روڈ ممبئی میں ایک چھوٹا سا مدرسہ قائم کیا تھا، جو بعد میں علاقے کے معززین کے تعاون سے سکینہ بائی چال (موجودہ دانش وِلا) مدنپورہ منتقل ہوا۔ یہی دو کمرے آج کی عظیم تعلیمی تحریک کا سنگِ بنیاد بنے۔
مدنپورہ میں واقع انجمن خیرالاسلام محمدعلی مٹھا ہائی اسکول کی عمارت۔ تصویر: آئی این این
یتیم خانہ و مدرسہ انجمن خیرالاسلام کا قیام ۱۹۲۷ ء میں یتیموں کی تعلیم و فلاح کیلئے عمل میں آیا تھا۔ محمد ادریس محلہ دار نے ۶؍ یتیم طلباء کے ساتھ بابو جیم کے دواخانہ، مورلینڈ روڈ ممبئی میں ایک چھوٹا سا مدرسہ قائم کیا تھا، جو بعد میں علاقے کے معززین کے تعاون سے سکینہ بائی چال (موجودہ دانش وِلا) مدنپورہ منتقل ہوا۔ یہی دو کمرے آج کی عظیم تعلیمی تحریک کا سنگِ بنیاد بنے۔
یہ بھی پڑھئے:چند کارخانوں سے ابتداء مگر اب بیگ کا بڑا بازار ہے!
۱۹۳۰ ء میں منشی محمد مقبول حسین کی صدارت میں اسے باقاعدہ تنظیمی شکل دی گئی، تب طلبہ کی تعداد ۴۷؍ تھی۔ اس دور میں دینی تعلیم کے ساتھ میونسپل پرائمری اسکول کا نصاب اس میں شامل کیا گیا۔ ۱۹۳۲ء میں پرائمری اسکول کو ۴۳۰ ؍ روپے کی پہلی سرکاری گرانٹ ملی۔ ثانوی تعلیم کیلئے بچے انجمن اسلام اور دیگر اسکولوں میں جاتے تھے۔ سیکنڈری اسکول کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ۱۹۵۵ء میں ۱۶ ؍ ہزار روپے میں بنگالی مسجد سے متصل ’خیرالاسلام منزل‘ خریدنے کے ساتھ پہلے غیر رسمی ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔ ٹرسٹ میں منشی اسرارالحق انصاری، منشی محمد یحییٰ، الحاج عبدالرحمٰن انصاری اطلس والااور الحاج محمد علی مٹھا جیسے قوم کے ہمدرد شامل تھے۔ ان سب کی رہنمائی میں مدنپورہ میں پہلا سیکنڈری اسکول اس نئی عمارت میں قائم ہوا۔
فی الوقت مدنپورہ میں انجمن خیر الاسلام کے ۶؍ اسکول ہیں جن میں انجمن خیر الاسلام سیکنڈری گرلز ہائی اسکول، سیکنڈری بوائز ہائی اسکول، پرائمری گرلز ہائی اسکول، پرائمری بوائز ہائی اسکول، پری پرائمری گرلز ہائی اسکول اور پری پرائمری بوائز ہائی اسکول شامل ہیں جن میں مجموعی طور پر ڈھائی ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما ءکا ۶۸؍ سالہ سفر
انجمن خیر الاسلام گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل مومن قیصر جہاں کے مطابق ’’ اسکول میں معیار ِتعلیم بلند کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے لیکچرز رکھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسکول کے ایس ایس سی کے نتائج گزشتہ ۱۰؍سال سے صد فیصد رہے ہیں۔ اسکول میں تدریسی نصاب کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں اہتمام سے انجام دی جاتی ہیں ۔ اسکول کی طالبات تقریری، تحریری، ڈرائنگ اور بینڈ کے مقابلوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتی ہیں۔ گزشتہ سال حکومت کی جانب سے ماجھی شالہ ۲۰۲۵ء کا انعام بھی ہمیں مل چکا ہے۔ اسپورٹس کے مقابلوں میں بھی اسکول نے ریاستی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔