• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھا سماج سڑکوں پر، حکومت کی منوج جرنگے کو منانے کی کوشش

Updated: September 04, 2026, 2:00 PM IST | Inquilab News Network | Jalna

جالنہ، اورنگ آباد، لاتور، عثمان آباد ، بیڑ اور دیگر اضلاع میں نوجوانوںنے سڑکیں جام کر دیں ، رادھا کرشن وکھے پاٹل جرنگے سے ملنے پہنچے۔

Maratha activists blocked the road at Karad, Satara. Picture: INN
ستاراکے کراڈ میں مراٹھا کارکنان نے راستہ جام کر دیا۔ تصویر: آئی این این
جالنہ:( آئی این این) مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے جمعرات کے روز لگاتار چھٹے روز بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے۔ اس دوران مراٹھا سماج نے حسب اعلان جالنہ، بیڑ، اورنگ آباد، عثمان آباد، اور ناندیڑ میں بند رکھا۔ ان اضلاع میں دکانیں پوری طرح بند رہیں جبکہ مراٹھا نوجوانوں نے راستہ روکو آندولن کیا۔ مجبوراً حکومت کی جانب سے وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کو منوج جرنگے سے ملنے کیلئے بھیجا گیا۔ وکھے پاٹل جرنگے کو منانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن خبر لکھے جانے تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ 
یاد رہے کہ بدھ کے روز ہی منوج جرنگے کی طبیعت کافی خراب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے مراٹھا نوجوانوں نے جالنہ اور بیڑ میں راستوں پر ٹائر جلا کر راستہ روکو آندولن کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اسی وقت مراٹھا سماج نے جمعرات کے دن ’بند‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اعلان کےم طابق صبح ہی سے جالنہ اورنگ آباد ، ناندیڑ ، لاتور اور عثمان آباد میں دکانیں بند رکھی گئیں۔ لاتور، شولاپور اور عثمان آباد میں احتیاطاً اسکولوں کو چھٹی دیدی گئی تھی۔ نوجوانوں نے سڑکوں پر اتر کر ٹریفک جام کر دیا۔  جو سنگل روڈ تھے وہاں تو کارکنان بیچ سڑک پر بیٹھے گئے اور جو چوراہے تھے وہاں بیریکیڈ لگا کر کھڑے ہو گئے۔ گاڑیوں کو آگے سرکنے کی جگہ نہیں ملی۔ ناندیڑ میں مراٹھاکارکنان نے گرفتاریاں بھی دیں۔  اس دوران ’ ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا‘ نعرے گونجتے رہے۔ ساتھ ہی منوج جرنگے کی حمایت اور حکومت کی مخالفت میں آوازیں سنائی دیں۔ 
اس دوران اورنگ آباد میں رادھا کرشن وکھے پاٹل کی وزراء کے ساتھ میٹنگ ہوتی رہی۔  اس بات کا خاکہ تیار کیا گیا کہ منوج جرنگے سے کون سے وعدے کئے جائیں اور مراٹھا سماج کیلئے کون سے اعلانات کئے جائیں۔ رات میں وکھے پاٹل ایک وفد لے کر منوج جرنگے سے ملنے پہنچے اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے مراٹھا سماج کے تمام مطالبات منظور کرلئے جانے کا عندیہ ظاہر کیا لیکن جرنگے بضد تھے کہ پہلے کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے اس کے بعد وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں گے۔ خبر لکھے جانے تک رادھا کرشن وکھے پاٹل جرنے کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یاد رہے کہ منوج جرنگے کی طبیعت نازک ہے اور انہوں نے ڈاکٹروں کی ضد پر پانی پیا ہے اور سلائین لگائی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK