اردو اسکولوں میں طلبہ کی تعداد متواتر کم ہونے اور مراٹھی اسکولوں کے بند ہونے کی وجہ معلوم کرنے کے ساتھ تعلیم اور طلبہ کیلئے بنیادی سہولتوں کے معیار میں بہتری لانا مقصد بتایا۔ ایڈیشنل کمشنر کو خط لکھ کر افسران اور عملہ کے ذریعہ تفصیلات فراہم کرنے میں تعاون کی ہدایت کا مطالبہ کیا۔
اب ہر کوئی طلبہ کے مسائل معلوم کرنے کی کوشش میں ہے۔ تصویر: آئی این این
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن میں جیت کر آنے والے کانگریس کے تمام کارپوریٹروں نے شہر و مضافات میں واقع بی ایم سی کے سبھی اسکولوں کا دورہ کرکے ان کے تعلق سے تجزیاتی رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اردو اسکولوں میں طلبہ کی تعداد لگاتار کم ہونے اور مراٹھی اسکولوں کے بند ہونے کی وجہ معلوم کی جاسکے اور ساتھ ہی ان اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ طلبہ کیلئے بنیادی سہولتوں کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔
اس تعلق سے ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورما کو جمعرات کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو حتمی بنائیں کہ بی ایم سی کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکولوں میں کانگریس کے کارپوریٹروں کے دورہ اور جائزہ لینے کے دوران متعلقہ افسران و عملہ کو ان عوامی نمائندوں کے ذریعہ طلب کی گئی تفصیلات فراہم کرنے میں تعاون کریں۔
۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے، مزید توسیع کریں گے: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی شرانگیزی
بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی کے ذریعہ تحریر کردہ اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’’عوامی نمائندوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم میونسپل اسکولوں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مناسب بنیادی ڈھانچہ، ضروری سہولیات اور معیاری تعلیم مل رہی ہے یا نہیں۔‘‘
اشرف اعظمی کے مطابقان دوروں کے ذریعہ کانگریس کے میونسپل کارپوریٹر اسکولوں کی عمارتوں اور کلاس رومز کی حالت، ڈیسک، بینچ، پینے کا پانی، صفائی، بجلی اور حفاظتی انتظامات سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی اور اہم امور کا جائزہ لیں گے۔ دیگر جن باتوں کا جائزہ لیا جائے گا ان میں اساتذہ کی دستیابی، خالی اسامیاں، اساتذہ اور طلبہ کا تناسب، تعلیم کا معیار اور مجموعی تدریسی ماحول شامل ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ طلبہ کو نصابی کتابیں، یونیفارم، تعلیمی مواد اور بی ایم سی کے ذریعہ انہیں دی جانے والی ۲۷؍ اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی کتب خانوں، لیباریٹریوں، ڈیجیٹل سہولیات، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تعلیمی وسائل کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:بیڑ میں سرکاری اسکولوں کی بدحالی کے خلاف سماجی تنظیموں کا بے مدت دھرنا
ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ محکمہ تعلیم، متعلقہ افسران، اسکولوں کے سربراہوں، پرنسپلوں اور انچارج افسران کو ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ ان معائنے کے دوران وہ مکمل تعاون کریں اور ضروری معلومات و ریکارڈ فراہم کرائے جائیں۔
اس کارروائی کا مقصد زمینی حقیقت کو سمجھنا، خامیوں اور کمیوں کی نشاندہی کرنا اور طلبہ، اساتذہ اور اسکولوں کے حقیقی مسائل اور ضروریات کو میونسپل انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا ہے۔ جہاں کہیں بھی کمی پائی جائے گی، اس معاملے کو انتظامیہ اور حکمراں محاذ کے سامنے اٹھا کر مناسب اصلاحی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔