ایس ایف آئی اور ڈی وائی ایف آئی کے کارکنان نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی کم تعداد کا بہانہ بنا کر اسکولوں کو بند کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 1:47 PM IST | ZA Khan | Nanded
ایس ایف آئی اور ڈی وائی ایف آئی کے کارکنان نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی کم تعداد کا بہانہ بنا کر اسکولوں کو بند کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
ضلع بیڑ کے سرکاری اسکولوں کی بدحالی اور انتظامیہ کی مبینہ بے حسی کے خلاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا( ایس ایف آئی)اور ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) نے یکم ستمبر سے بیڑ ضلع پریشد دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کیا ہے۔ ریاست گیر ’اسکول بچاؤ، اسکول سدھارو‘ مہم کے تحت پورے مہاراشٹر میں یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈی جے کی مخالفت کرنے والے سماجی کارکن پر حملہ
بیڑ میں احتجاج کے پہلے ہی دن مظاہرین کا جارحانہ رخ دیکھنے کو ملا۔احتجاج سے قبل تنظیم کی جانب سے ضلع کی ۲۶؍ سرکاری اسکولوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں اسکولوں کی بدحالی کی سنگین صورتحال سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے کم طلبہ والی اسکولوں کو بند کرنے یا انہیں قریبی اسکولوں میں ضم کرنے کی پالیسی کے سبب دیہی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے غریب اور محنت کش خاندانوں کے بچوں، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم چھوٹ جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مظاہرین کے مطابق کئی علاقوں میں آمدورفت کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کیلئے دور واقع اسکولوں میں روزانہ جانا ممکن نہیں ہوگا، جس سے ’ڈراپ آؤٹ‘ کی شرح بڑھنے کا خطرہ ہے۔
ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی صدر موہن جادھو نے کہا کہ سرکاری اسکول دیہی علاقوں کے بہوجن اور محنت کش خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کا سب سے اہم سہارا ہیں۔ طلبہ کی کم تعداد کا جواز پیش کرکے انتظامیہ اسکول بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔موہن جادھو نے کہا کہ تنظیم نے ضلع کی ۲۶؍ اسکولوں کا جائزہ لیا، جس کے دوران وہاں کی انتہائی خراب صورتحال سامنے آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کی مرمت، اساتذہ کی بھرتی اور اسکولوں کے انضمام کو روکنے کے بارے میں ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، تب تک دھرنا واپس نہیں لیا جائے گا۔موہن جادھو نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو بچانے اور ان کی حالت بہتر بنانے کیلئے حکومت کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔