منترالیہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیرٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کااعلان۔ اراکین پارلیمان ورشاگائیکواڑ اور پرنیتی شندے نے کہا کہ وہ کسی بھی زبان کولازمی قرار دینے اور تھوپنے کے خلاف ہیں۔
وزیرٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جبکہ اداکار رتیش دیشمکھ اوردیگر افراد بھی نظر آرہے ہیں- تصویر:آئی این این
ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بدھ کو منترالیہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ صرف آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بولنا اور پڑھنا لازمی نہیںہو گا بلکہ اولا ، اوبر اور ریپیڈو کے ڈرائیوروں کو بھی مراٹھی بولنا اور پڑھنا آنا ضروری ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے اداکار رتیش دیشمکھ کو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ (ایس ٹی) کی سیفٹی مہم ، اس کی خدمات اور اسکیموں کو عام شہریوں تک پہنچانے کی مہم کیلئے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کرنے کیلئے منعقدہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔
پرتاپ سرنائک نے مزید کہا کہ قاعدے کے تحت تمام لائسنس یافتہ ڈرائیوروں کو مراٹھی پڑھنا، لکھنا اور بولنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے ریاست بھر میں ریجنل ٹرانسپورٹ آفس(آر ٹی اوز) کے ذریعے جانچ اور تصدیق کی مشقیں کی جائیں گی۔اس سلسلے میں جب وزیر ٹرانسپورٹ سے یہ پوچھا گیا کہ ممبئی ایک میٹرو پولیٹن سٹی ہے اور یہاں پر مراٹھی کو لازمی قرار دینے پر اتنا زور کیوں دیا جارہا ہے؟ توپرتاپ سرنائک نے کہا کہ یہ تو ٹرانسپورٹ اور لائسنس کے اصولوں میں پہلے ہی سے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میں محض اسے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور اب ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس سلسلے میں آٹو رکشا اور ٹیکسی یونینوں نے ایک جانب اپنے اراکین کو مراٹھی سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو دوسری جانب حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف کورٹ سے رجوع ہونے اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ممبئی کانگریس کی صدر ا ور رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ اور رکن پارلیمان پرنیتی شندے نے کہا کہ انہیں مراٹھی ہونے پر فخر ہیں لیکن وہ کسی بھی زبان کو لازمی قرار دینے اور تھوپنے کے خلاف ہیں۔
واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم مئی ۲۰۲۶ء سے ریاست بھر میں لائسنس یافتہ آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کا علم لازمی ہوگا۔مسافروں سے رابطہ بہتر بنانے کیلئے تمام لائسنس یافتہ آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں پر اسے نافذ کیا گیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق اس ریاست گیر مہم کے نفاذ کا آغاز میرا بھائندر جیسے علاقوں سے ہوگا جس میں زبان کی مہارت کو جانچنے کیلئے ٹیسٹ کئے جائیں گے۔مراٹھی میں مہارت کو ثابت کرنے میں ناکام ڈرائیوروں کو اپنے آپریٹنگ پرمٹ سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ ٹیکسی اور آٹورکشا یونین اس اقدام پر احتجاج کر رہی ہیں، خاص طور پر تارکین وطن ڈرائیوروں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ظاہر کر رہی ہیں۔