کنیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے عالمی معاشی خطرات کے پیشِ نظرعوام سے ’’کنیڈین مصنوعات خریدنے‘‘ کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی توجہ اپنی استطاعت پر مرکوز کریں گے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 10:20 PM IST | Ottawa
کنیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے عالمی معاشی خطرات کے پیشِ نظرعوام سے ’’کنیڈین مصنوعات خریدنے‘‘ کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی توجہ اپنی استطاعت پر مرکوز کریں گے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے شہریوں سے گھریلو کاروباروں کے پیچھے متحد ہونے کی اپیل کی ہے، اور ’’بائے کنیڈین‘‘ ( کنیڈین خریدو) مہم کو دوبارہ زندہ کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ کنیڈاامریکہ کے خلاف ممکنہ معاشی جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی تجارتی دھمکیوں کے بعد آ رہی ہے۔ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں، کارنی نے اس اپیل کو بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ، خاص طور پر واشنگٹن سے، کے جواب کے طور پر پیش کیا اور عوام کو گھریلو معیشت کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دی۔انہوں نے کہا ،’’بیرون ملک سے ہماری معیشت کو خطرہ لاحق ہے۔ کینیڈینوں نے انتخاب کیا ہے: جو ہم کنٹرول کر سکتے ہیں اس پر توجہ مرکوز کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا اور چین کی قربت پر ٹرمپ چراغ پا، ٹیرف کی دھمکی
کارنی نے کہا، ’’ہم دوسرے ممالک کے اعمال کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہم خود اپنے بہترین گاہک بن سکتے ہیں۔ ہم کنیڈین خریدیں گے۔ ہم کنیڈین بنائیں گے۔ مل کر ہم زیادہ مضبوط بنیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ کارنی کا یہ تبصرہ ٹرمپ کی تنبیہ کے چند دن بعد آئے ہیں جس میں انہوں نے کنیڈا کو چین کے ساتھ معاشی روابط گہرے کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا اورکنیڈین اشیا پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ بعد ازاں ٹرمپ نےکنیڈا پر الزام لگایا کہ وہ چینی برآمدات کے لیے امریکہ کی مارکیٹ میں گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کنیڈین لیڈر کو گورنرکہہ کر مخاطب کیا اور لکھا، ’’اگر گورنر کارنی سمجھتے ہیں کہ وہ کنیڈا کو چین کے لیے `ڈراپ آف پورٹ بنائیں گے تاکہ چین امریکہ میں اشیا اور مصنوعات بھیج سکے، تو وہ شدید غلطی پر ہیں۔چین کنیڈا کو کھا جائے گا، مکمل طور پر نگل جائے گا، جس میں ان کی کمپنیوں، سماجی ڈھانچے اور عام طرز زندگی کی تباہی شامل ہے۔ اگرکنیڈا چین کے ساتھ کوئی ڈیل کرتا ہے تو فوری طور پر تمام کنیڈین اشیا اور مصنوعات پر امریکہ میں درآمد پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کے سینئر فوجی کمانڈروں نے فوج کے اتحاد کو دشمن کے خلاف ایک ہتھیار قرار دیا
تاہم کارنی نے ٹرمپ کا براہ راست نام لیے بغیر، اپنی بائےکنیڈین‘‘اپیل کو معاشی اور سیاسی حکمت عملی دونوں کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی خریداری اور صنعتی پالیسیوں کو اس پیغام کے مطابق ترتیب دے گی، گھریلو سپلائراور ورکرز کو ترجیح دے گی۔کارنی نے اس اقدام کو ’’بڑے پیمانے پر تعمیر‘‘ کی وسیع تر قومی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ، بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹس اور دفاعی خریداری کو مرکزی ستون بتایا۔ انہوں نے زور دیا کہ’’ مستقبل کی سرمایہ کاری تیزی سے کنیڈین اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی، ساتھ ہی گھریلو ٹیکنالوجی اور لیبر پر انحصار کریں گی۔ہم دوسرے ممالک کے اعمال کو کنٹرول نہیں کر سکتےکنیڈا اس کے بجائے خود کا بہترین گاہک بننے کا انتخاب کر سکتا ہے۔‘‘مزید برآںٹرمپ نے کنیڈا پر گرین لینڈ سے منسلک اپنے تجویز کردہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کی مخالفت کرنے پر بھی تنقید کی ہے اور کنیڈا پر واشنگٹن کے بجائے چین کے ساتھ صف بندی کا الزام لگایا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ چین امریکہ کے بعدکنیڈا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ جبکہ چین دورے کے نتیجے میں بعض کنیڈین زرعی برآمدات پر ٹیرف کم کرنے، چینی الیکٹرک وہیکل درآمدات پر کوٹہ متعارف کرانے اورکنیڈا میں چینی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکان کو تلاش کرنے کی تفہیم ہوئی۔اس رابطے کے بارے میں پہلے بات کرتے ہوئے، کارنی نے بیجنگ کے ساتھ بات چیت کو’’ حقیقت پسندانہ اور احترام آمیز‘‘بتایا تھا۔کشیدگی بڑھنے کے ساتھ، کارنی کا پیغام معاشی خود انحصاری کی طرف ایک تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔