شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہی بڑی گراوٹ کے درمیان بی ایس ای کی ٹاپ ۱۰؍ میں شامل ۸؍ کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن (ایم کیپ) میں۲۸۱۵۸۲؍ کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو کمپنیوں کی قدر میں ۱۸۲۰۹؍ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 6:09 PM IST | Mumbai
شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہی بڑی گراوٹ کے درمیان بی ایس ای کی ٹاپ ۱۰؍ میں شامل ۸؍ کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن (ایم کیپ) میں۲۸۱۵۸۲؍ کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو کمپنیوں کی قدر میں ۱۸۲۰۹؍ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔
شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہی بڑی گراوٹ کے درمیان بی ایس ای کی ٹاپ ۱۰؍ میں شامل ۸؍ کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن (ایم کیپ) میں۲۸۱۵۸۲؍ کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو کمپنیوں کی قدر میں ۱۸۲۰۹؍ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔
سرکاری شعبے کے قرض دہندہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں سب سے زیادہ۵۳۹۵۳؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ نجی شعبے کے آئی سی آئی سی آئی بینک کو۴۶۹۳۷؍ کروڑ روپے اور ایچ ڈی ایف سی بینک کو۴۶۵۵۲؍ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کی کمپنی ایل اینڈ ٹی کی ایم کیپ میں۴۵۶۲۹؍ کروڑ روپے کی کمی ہوئی۔ نان بینکنگ کمپنی بجاج فائنانس کا مارکیٹ کیپیٹلائزیشن۲۸۹۳۵؍ کروڑ روپے اور آئی ٹی کمپنی ٹی سی ایس کا ۲۸۴۹۲؍ کروڑ روپے کم ہوا۔ ایف ایم سی جی کمپنی ہندوستان یونی لیور کے ایم کیپ میں ۲۶۳۵۱؍کروڑ روپے اور بھارتی ایئرٹیل کے ایم کیپ میں۷۵ء۷۳۲۴؍ کروڑ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب، مختلف شعبوں میں کاروبار کرنے والی ریلائنس انڈسٹریز کا مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں ۱۴۷۵۰؍ کروڑ روپے اور آئی ٹی کمپنی انفوسیس کے ایم کیپ میں ۳۴۵۹؍کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کے لحاظ سے۱۹۰۱۵۸۳؍ کروڑ روپے کے ساتھ ریلائنس انڈسٹریز پہلے نمبر پر رہی۔ اس کے بعد ایچ ڈی ایف سی بینک کا ایم کیپ ۱۳۱۹۱۰۷؍ کروڑ روپے اور بھارتی ایئرٹیل کا۱۰۶۷۱۲۱؍ کروڑ روپے درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:انسٹاگرام پر وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا کی شادی کا ویڈیو ریکارڈ بنانے میں کامیاب
شیئر بازاروں پر نظر آئے گا مغربی ایشیا کا اثر
گھریلو شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہی بڑی گراوٹ کے بعد، آئندہ ہفتے ایک بار پھر مغربی ایشیا کے بحران کا دباؤ حاوی رہ سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں گزشتہ ۲۸؍ فروری کو ایران پر کیے گئے حملے اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کی وجہ سے مغربی ایشیا میں صورتحال کافی بگڑ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، عالمی تجارت کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے اور غیر یقینی صورتحال اپنے عروج پر ہے۔ اگر فوجی ٹکراؤ میں کمی کی خبر نہیں آتی ہے تو بازار مزید گر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ فائنل: ہندوستانی خواتین ٹیم نے ٹیم انڈیا کا حوصلہ بڑھایا
گزشتہ ہفتے ۳؍ مارچ کو ہولی کی تعطیل کی وجہ سے شیئر بازاروں میں صرف چار دن ہی کاروبار ہوا۔ جمعرات کو چھوڑ کر دیگر تین دن بازار میں فروخت کا دباؤ رہا۔ پورے ہفتے کے دوران بی ایس ای کا حساس انڈیکس `سینسیکس۲۹ء۳۶۸۲؍ پوائنٹس ٹوٹ کر ہفتے کے اختتام پر۹۰ء۷۸۹۱۸؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ ۱۷؍ اپریل ۲۰۲۵ء کے بعد اس کی نچلی ترین سطح ہے۔