Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش کا مونگلا پورٹ پروجیکٹ ہندوستان کے بجائے چین کو دیدیا گیا

Updated: July 10, 2026, 11:59 AM IST | Agency | Dhaka

۲۰۱۵ء میں شیخ حسینہ کی حکومت نے اس پروجیکٹ کیلئے حکومت ہند سے گفتگوکی تھی لیکن تختہ پلٹ کے بعد محمد یونس کی عبوری حکومت نے اسے ہندوستان سے واپس لے لیا تھا ۔

Mongla Port Project Out Of India`s Hands. Photo:INN
مونگلا پورٹ پروجیکٹ ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گیا - تصویر:آئی این این
 ان دنوں بنگلہ دیش کی دوسری سب سے بڑی بندر گاہ مونگلا پورٹ سرخیوں میں ہے ۔ وجہ ہے  اس پورٹ کی تعمیر کے کاموں کیلئے بنگلہ دیش حکومت کا چین کے ساتھ معاہدہ کرنا۔ یاد رہے کہ مونگلا پورٹ پروجیکٹ کا معاہدہ پہلے ہندوستان کے ساتھ ہونے والاتھا لیکن عین موقع پر اس میں چین شامل ہو گیا۔ یہ صرف اتنی سی بات نہیں ہے کہ مونگلا پورٹ پروجیکٹ چین کے ہاتھ چلا گیا بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ  اب ہندوستانی سرحد پر بیجنگ کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔  بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے گزشتہ ہفتے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے طور پر پہلے ملائیشیا ،اسکے بعد چین کا سفر کیا۔ ماضی میں بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم اپنی پہلی سرکاری بیرون ملک مصروفیت کیلئے روایتی طور پر ہندوستان کا دورہ کرتے تھے۔ لہٰذابنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم کی گئی نئی حکومت کے اس اقدام کوہندوستان کیلئے ایک اہم سفارتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
 
 
چین کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط
چین کے دورے کے آخری روز وزیر اعظم طارق رحمان نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے مشیر مہدی امین نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دورے کے دوران ۱۱؍ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو) اور ؍ باقاعدہ معاہدوں پر دستخط کئے گئے، جن میں مونگلا پورٹ کے علاقے میں ایک اکنامک ژون قائم کرنا بھی شامل ہے۔مہدی امین کے مطابق چین سڑکوں، پلوں اور ریلوے کے  ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹیشن سسٹم کی ترقی میں بھی بنگلہ دیش کی معاونت کرے گا۔
مونگلا بندرگاہ کی اہمیت
مونگلا بندرگاہ  ہندوستانی شہر کولکاتا سے تقریباً ۱۸۸؍ کلومیٹر جبکہ ہند۔ بنگلہ زمینی سرحد سے صرف ۸۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس کی وجہ سے اسے خطے میں دفاعی اہمیت حاصل ہے۔ معاہدے کے تحت چین مونگلا میں ۱۱۰؍ ایکڑ اراضی پر ایک اقتصادی ژون، صنعتی مرکز اور لاجسٹک ہب قائم کرے گا۔ اس کے علاوہ اس بندرگاہ کی توسیع اور اسے جدید خطوط پر ترقی کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔واضح رہے کہ ۲۰۱۵ء میں اسی منصوبے پرحکومت ہند سے گفتگو ہوئی تھی لیکن شیخ حسینہ  حکومت کے خاتمے کے بعد محمد یونس کی عبوری حکومت نے اس منصوبے سے بھارت کو الگ کر دیا تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کھلنا سے مونگلا بندرگاہ تک ریلوے لائن ہندوستان کےمالی تعاون سے تعمیر کی گئی تھی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے، تاہم اب یہی ریلوے لائن چین کے تعاون سے قائم ہونے والے اقتصادی ژون کے کام آئے گی۔
 حکومت ہند کیلئے تشویش کا مرحلہ 
 ماہرین کے مطابق مونگلا پورٹ پر چین کی موجودگی سے ہندوستانی سرحد کے قریب اس کا اثر و رسوخ بڑھے گا، جو باعث تشویش ہے۔ اقتصادی ژون کی آڑ میں چین الیکٹرانک نظام کے ذریعے ہندوستانی بحریہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتا ہے، جبکہ کولکاتا اور ہلدیا کی بندرگاہیں بھی اسکی نگرانی کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہی زمین پہلے ہندوستان کیلئے مختص کی گئی تھی، جسے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خلاف ہندوستان کی ایک سفارتی کامیابی تصور کیا گیا تھا، تاہم محمد یونس کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کے بعد یہ منصوبہ ہندوستان سے واپس لے لیا گیا تھا۔
 
 
تیستا منصوبہ بھی تشویش کا باعث
اسکے علاوہ  چین نے بنگلہ دیش کو تیستا ماسٹر پلان  میں بھی تکنیکی مدد کی پیش کش کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیستا منصوبے میں چین کی شمولیت بھی حساس معاملہ ہے، کیونکہ دریائے تیستا ہندوستان کے اس اہم علاقے سے گزرتا ہے جسے `چکن نیک‘ یا سلی گوڑی کوریڈور کہا جاتا ہے۔ یہ راہداری ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے اور دفاعی لحاظ سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔حالانکہ چین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان پروجیکٹوں میں اسکی شمولیت کسی تیسرے ملک پر نظر رکھنے کیلئے ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK