Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس نے وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا

Updated: July 10, 2026, 11:51 AM IST | Agency | New Delhi

پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ سی بی ٹی نظام کے باوجود پرچہ لیک اور امتحان میں بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Kapil Sibal.Photo:INN
کپل سبل۔ تصویر:آئی این این

کانگریس نے یو جی سی-نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ وزارتِ تعلیم ’کمزور‘ ہو چکی ہے، جبکہ این ٹی اے کو ’جان بوجھ کر نااہل اور غیر فعال‘ بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث امتحانات کے نظام میں تبدیلی اور کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کے باوجود پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کا سلسلہ نہیں رُکا۔

یہ بھی پڑھئے:’’مسلم پرسنل لاء کے تحت بلوغت کی عمر میں شادی پوکسوایکٹ کے خلاف ہے ‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مئی ۲۰۲۶ء میں نیٹ-یو جی کا پرچہ مبینہ طور پر لیک ہونے کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ سال سے نیٹ امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) کے ذریعے منعقد کیا جائے گا، جس سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس طریقۂ کار میں پرچہ لیک ہونے کا امکان ختم ہو جائے گا۔ جے رام رمیش کے مطابق اب ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ یو جی سی-نیٹ سوشیالوجی کے امتحان کا پرچہ بھی مبینہ طور پر لیک ہوا، حالانکہ یہ امتحان بھی سی بی ٹی طریقے سے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل یو جی سی-نیٹ انگریزی کے امتحان میں سوالات پرانے پرچوں سے بغیر کسی تبدیلی کے دوہرائے گئے تھے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ امتحان کا طریقۂ کار تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوا اور پرچہ لیک سمیت دیگر بے ضابطگیاں بدستور جاری ہیںاور مرکزی حکومت لاکھوں طلبہ محفوظ مستقبل دینے میں ناکام رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK