Updated: September 26, 2026, 9:01 PM IST
| Aligarh
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ ۸؍ سالوں سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں طلباء کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں ، طلبہ کا مطالبہ ہے کہ یونین ان کا حق ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کا حق چھین رہا ہے ، فی الحال ایک طالب علم نے غیر معینہ مدت کیلئےبھوک ہڑتال بھی شروع کی ہے۔
ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد۔ تصویر: ایکس
علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) میں ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد اسٹوڈنٹس یونین (AMUSU) کی بحالی اور نئے انتخابات کروانے کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ جمعہ کو ان کی اس بھوک ہڑتال کو پانچ دن مکمل ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مطالبہ نامے کا کوئی جواب نہ ملنے پر یاسر فہد نے یہ قدم اٹھایا۔ طلباء کے میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں آخری بار یونین کے انتخابات سال ۲۰۱۸ء-۱۹ءمیں ہوئے تھے، جس کی وجہ سے گزشتہ تقریباً آٹھ سالوں سے طلبہ ایک منتخب اسٹوڈنٹس یونین سے محروم ہیں۔ بعد ازاںطلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یونین کی بحالی کا عمل شروع کرے، انتخابی اتھارٹی تشکیل دے، الیکشن کا شیڈول جاری کرے اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط، یو جی سی کے طے کردہ اصولوں، عدالتی ہدایات اور لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق شفاف انتخابات کروائے۔دوسری طرف، جس دن (۲۰؍ ستمبر) یاسر فہد نے بھوک ہڑتال شروع کی، اسی دن یونیورسٹی انتظامیہ نے تفصیلی انکوائری تک انہیں معطل کر دیا۔ آن لائن نیوز پورٹل مکتوب میڈیا سے بات کرتے ہوئے فہد نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی یہ کارروائی ان کے یونین کی بحالی کے مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا،’’یونین کی بحالی کیلئےپرامن مارچ نکالنے کے بعد، اسی رات دو بجے مجھے معطلی کا خط موصول ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کسی بھی قسم کی سرگرمی یا اختلافِ رائے کے خلاف ہے۔‘‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پروکٹوریل ٹیم نے انہیں زبردستی دھرنے کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ بدسلوکی و ہاتھا پائی کی۔ انہوں نے کہا ، ’’اسی دن شام چار بجے کے قریب پوری پروکٹوریل ٹیم دھرنے کی جگہ آئی اور مجھ پر ہڑتال ختم کرنے کا دباؤ ڈالا۔ ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں مجھے کالر اور جیب سے پکڑ کر گھسیٹا جا رہا ہے۔ــ’’احتجاجی طلباء کا یہ بھی الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کی میڈیکل ٹیم کو یاسر فہد کا طبی معائنہ کرنے سے روکا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاج، اپوزیشن و نوجوان لیڈرز کا کارروائی کا مطالبہ
تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ نے فہد کی معطلی پر اپنا الگ موقف پیش کیا ہے۔ انتظامیہ کا الزام ہے کہ فہد نے ۱۴؍ ستمبر کو ڈک پوائنٹ سے بابِ سید تک ایک ’’غیر قانونی احتجاجی مارچ‘‘ منعقد کیا اور تقریباً دیگر۱۰؍ افراد کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کو بلاک کر دیا۔ یونیورسٹی کے مطابق، اس موقع پر انتظامیہ کے خلاف توہین آمیز اور بدنام کرنے والے نعرے لگائے گئے، جو کہ بابِ سید پر راستے کی رکاوٹ سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ معطلی کے حکم نامے میں عبداللہ ہال کی طالبات کے ساتھ ہونے والے سلوک کے حوالے سے فہد کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ویمنز کالج کو ’’میدانِ جنگ‘‘بنا دیا گیا ہے۔ مزید برآں انتظامیہ نے فہد پر سوشل میڈیا کے ذریعے طالبات کو اکسانے کا الزام لگایا کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں اور انتظامیہ سے بات چیت نہ کریں۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ ۱۵؍، ۱۹؍ اور ۲۰؍ ستمبر کو فہد سے ان کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ دستیاب معلومات کی ابتدائی جانچ کی بنیاد پر یونیورسٹی نے کہا کہ فہد کا یہ رویہ اے ایم یو اسٹوڈنٹس کنڈکٹ اینڈ ڈسپلن رولز ۱۹۸۵ء کے تحت شدید بدنظمی کے زمرے میں آتا ہےاور مجاز اتھارٹی کی تحریری اجازت کے بغیر یونیورسٹی کیمپس اور تمام متعلقہ اداروں میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ایمس میں ڈاکٹر کیساتھ مارپیٹ، ڈاکٹروں کا احتجاج
جبکہ پروکٹوریل ٹیم کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے فہد نے کہا کہ ’’۱۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ءکو ویمنز کالج اور عبداللہ ہال کی طالبات نے ہاسٹل کے ڈائننگ ہال میں غیر صحتمندانہ ماحول اور خراب کھانے کے خلاف ایک بڑا احتجاج کیا تھا، جس کے بعد یونیورسٹی کی پروکٹوریل ٹیم نے طالبات کے ساتھ گالی گلوچ اور بدسلوکی کی تھی۔ ہم بطور طالب علم وہاں صرف ان طالبات کی حمایت کیلئے موجود تھے جو بہتر غذائی سہولیات کا مطالبہ کر رہی تھیں۔‘‘
مزید برآںسابق اے ایم یو طلبہ یونین کے لیڈربھی احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں آگے آئے ہیں۔ سابق اے ایم یو ایس یو صدر سلمان امتیاز نے مکتوب میڈیا کو بتایا کہ اسٹوڈنٹس یونین یونیورسٹی کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس کی بحالی محض ایک عمارت کو کھولنے کا نام نہیں بلکہ طلبہ کی نمائندگی اور قیادت کی بحالی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی بنیاد ہی طلباء میں ذمہ دارانہ قیادت پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ یونین کی عمارت پچھلے آٹھ سالوں سے بند پڑی ہے اور کہا کہ تعلیمی عمدگی اور طلبہ کی نمائندگی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ساتھ چلنے والے پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور اے ایم یو ایس یو کے سابق کابینہ رکن متین اشرف نے بھی فہد کی بھوک ہڑتال کی حمایت کی اور جے این ایم سی کی میڈیکل ٹیم کو روکنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے طلباء سے فہد کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خاموش رہنے کا مطلب یونیورسٹی میں اپنی نمائندگی کھو دینا ہے۔ جبکہ ایک اور سابق طلبہ لیڈر مصطفیٰ مقیت نے مکتوب میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کے کئی ایسے مسائل ہیں جنہیں انتظامیہ تک پہنچانے کیلئے اسٹوڈنٹس یونین ایک مضبوط پلیٹ فارم کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کیمپس میں جمہوری آوازوں کو دبایا گیا تو اس سے ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔اے ایم یو کے طلبہ کا یہ مطالبہ ملک بھر کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی طلبہ یونین انتخابات کی اٹھنے والی آوازوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: محنت کش خاندان کی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کیلئے گاؤں والوں نے چندہ جمع کیا
واضح رہے کہ مانومیں رواں سال جنوری میں احتجاج کے بعد انتظامیہ نے الیکشن کے انعقاد کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ۲۰۰۶ء میں یونین پر پابندی کے بعد سے پچھلے ۲۰؍ سالوں سے کوئی اسٹوڈنٹس یونین نہیں ہے۔ اے ایم یو کے طلباء کے مطابق ان کا مقصد تعلیمی ماحول کو خراب کرنا نہیں بلکہ انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان بات چیت کا باقاعدہ راستہ قائم کرنا ہے۔دوسری طرف یاسر فہد نے مطالبات کی منظوری تک اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یا تو مجھے اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کی تاریخ ملے گی یا میری موت، اب فیصلہ اے ایم یو انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم صرف طلبہ کی قیادت کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہےاور یونیورسٹی ہم سے ہمارا یہ حق نہیں چھین سکتی۔‘‘