Updated: May 08, 2026, 2:27 PM IST
| Damascus
ماسٹرکارڈ نے شام میں بین الاقوامی بینک کارڈ ٹرانزیکشنز کی تکنیکی تیاری مکمل کر لی ہے، جو ۱۵؍ سال بعد ملک کو عالمی ادائیگی نظام سے دوبارہ جوڑنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس پیش رفت سے شامی معیشت اور ڈجیٹل مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی’’ SANA ‘‘ کے مطابق ماسٹرکارڈ، جو دنیا کے سب سے بڑے پے مینٹ نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، نے شام میں بین الاقوامی بینک کارڈ ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے کیلئے تکنیکی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ گزشتہ۱۵؍ سال میں اس نوعیت کا پہلا قدم ہے۔ کمپنی کے حوالے سے SANA نے بتایا کہ یہ اقدام شام کی مارکیٹ کو عالمی ادائیگی کے نیٹ ورک سے دوبارہ جوڑنے کی راہ ہموار کرتا ہے اور ملک کے بینکاری اور مالیاتی شعبے کو جدید بنانے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاکہ یہ عالمی ڈجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق ہو سکے۔ ‘‘ مرکزی بینک کے گورنر عبدالقدیر حُسریہ نے کہا کہ یہ پیش رفت قومی معیشت کیلئے’’بڑا سہارا‘‘ ثابت ہوگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے کاروبار اور افراد کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صارفین کو ڈجیٹل ادائیگی کے حل سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا، ادائیگیوں کی قبولیت آسان ہوگی، اور بیرونِ ملک مقیم شامیوں کی ترسیلات زر کیلئے زیادہ مؤثر چینلز فراہم ہوں گے۔ ماسٹرکارڈ کے ویسٹ عربیہ کے ریجنل ہیڈ ایڈم جونز نے کہا کہ کمپنی شامی مرکزی بینک کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اور محفوظ ادائیگی کا نظام قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی تیاریوں کی تکمیل ڈجیٹل مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور محفوظ مالی خدمات تک رسائی بڑھانے کی ایک اہم پیش رفت ہے اور کمپنی مالی شمولیت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
یہ اقدام۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو شامی مرکزی بینک اور ماسٹرکارڈ کے درمیان دستخط شدہ ایک مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد ملک میں ڈجیٹل ادائیگی کے نظام کو ترقی دینا اور مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ ایک عالمی مالیاتی کمپنی جیسے ماسٹرکارڈ کی جانب سے تکنیکی تیاریوں کی تکمیل اس بات کی علامت ہے کہ شام کی مالی تنہائی ختم کرنے اور اسے بین الاقوامی ادائیگی نظام سے دوبارہ جوڑنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔ ماسٹر کارڈ نے برسوں سے شام میں معمول کے مطابق کام نہیں کیا تھا کیونکہ ملک کی خانہ جنگی کے دوران عائد پابندیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے۔ تاہم، ان پابندیوں میں سے کچھ کو مرحلہ وار نرم کیا گیا۔ ۲۰۲۴ء کے آخر میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی انتظامیہ نے سیاسی اور معاشی اصلاحات کا آغاز کیا ہے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کی ہے۔