۲؍ باڈی گارڈز کو بھی ضمانت ملی، خان سر نے فائرنگ کا بھی الزام لگایا تھا لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 1:23 PM IST | Patna
۲؍ باڈی گارڈز کو بھی ضمانت ملی، خان سر نے فائرنگ کا بھی الزام لگایا تھا لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
خان گلوبل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر فیصل خان عرف خان سر اور ان کے دو محافظوں پردیپ کمار اور تلبر سنگھ کو پٹنہ سول کورٹ نے ضمانت دے دی ۔ پٹنہ کوچنگ تنازع کیس میں خان سر کی درخواست اور باڈی گارڈ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ پٹنہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے اس کیس میں خان سر کی پیشگی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ۔فیصل خان کے وکیل اروند کمار ماور نے عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ سول عدالت نے آج فیصل خان اور ان کے محافظ کی پیشگی ضمانت کی درخواستوں پر حتمی حکم جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے تمام ملزمین کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔۲؍ جون کی شام کو پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پر حملے کی خبر آئی ۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا گیا۔ اس واقعہ کے دوران کچھ لوگوں نے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے گارڈ پر حملہ کیا۔ خان سر نے الزام لگایا کہ حملہ کے دوران شرپسندوں نے فائرنگ بھی کی۔ اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور واقعہ کی تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے کسی فائرنگ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ خان سر نے بتایا کہ افراتفری کی وجہ سے وہ اس واقعے سے لاعلم تھے اورڈر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کا نظام تعلیم وصولی کا ذریعہ بن گیا ہے: راہل گاندھی
خان سر نے حریف کوچنگ آپریٹر روشن آنند اور اس کے حامیوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ پولیس نے گیان بندو آپریٹر روشن آنند اور ان کے بھائی شہزادہ یادو سمیت ان کے حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ روشن آنند کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے چند دن بعد شہزادہ یادو کا نیپال میں انتقال ہو گیا۔ موت کی وجہ دماغی بیماری بتائی گئی، لیکن روشن آنند نے خان سر پر قتل کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا۔