جمعیۃ علماء کی مجلس عاملہ میں مولانا ارشد مدنی کا خطاب، مزیدکہا’’ مسلمان نہ جھکاہے اور نہ کبھی جھکے گا، پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوں کے نشانے پر تھا، اب اسلام بھی ہے‘‘
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 1:02 PM IST | Saeed Ahmed Khan | New Delhi
جمعیۃ علماء کی مجلس عاملہ میں مولانا ارشد مدنی کا خطاب، مزیدکہا’’ مسلمان نہ جھکاہے اور نہ کبھی جھکے گا، پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوں کے نشانے پر تھا، اب اسلام بھی ہے‘‘
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ میں ملک کے موجودہ حالات، نفرت انگیزی، مسلمانوں کے خلاف مہم، مدارس کو نشانہ بنانے، ایس آئی آر کی آڑ میں حق رائے دہی سے محروم کئے جانے، مدارس کے خلاف مہم اور پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تعلق سے تفصیلی گفت وشنید کی گئی۔ دہلی جمعیۃ کے دفتر میں جمعرات سے شروع ہوکر سنیچر کی سہ پہر تک چلنے والی عاملہ کی میٹنگ میں بالخصوص صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کھل کر اظہار خیال کیا۔
مولانا نے کہا کہ آئین کی قسم کھاکر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے حکمرانوں پر ہر شہری کے آئینی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، یہ درست ہے کہ سابقہ حکومتوں نے بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور موجودہ حکومت اسلام کو بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے، اسلام زندہ ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام تا قیامت زندہ رہے گا۔ نفرت کی سیاست کی جگہ اب دھمکی آمیز سیاست مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ یہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ نفرت کی سیاست کی جگہ اب دھمکی آمیز سیاست نے لے لی ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو ڈرا دھمکاکر یہ باور کرانا ہے کہ اب انہیں یہاں مشروط زندگی گزارنی ہوگی، جو ایسا نہیں کریگا اس کی جگہ جیل ہوگی، اس طرح کی نئی سیاست قانون اور آئین کی بالادستی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدارکے لئے کچھ لوگ امن واتحاد کے ساتھ خطرناک کھلواڑ کررہے ہیں ، سیاست کی اس نئی روش سے پورے ملک میں منافرت اور مذہبی شدت پسندی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے، حالات کچھ اس قدر بھیانک ہوچکے ہیں کہ جس کو دیکھو آگ اگل رہاہے، مسلمانوں کی تذلیل کررہاہے اور قانون کے رکھوالے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری میں ریکارڈووٹنگ: الیکشن کمیشن
مولانا مدنی نے ۵؍ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن کے تناظر میں کہا کہ مغربی بنگال اورآسام میں کھلے عام انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اشتعال انگیزی کی گئی، مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں دی گئیں، الیکشن جیت لینے کے بعد بھی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری ہے۔ ایک نومنتخب وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا اس لئے ہم ان کا کام نہیں کریں گے، آئین اور جمہوریت دونوں کا مذاق اڑانے جیسا ہے ، آئین ہرشہری کو برابرکا حق دیتاہے، اور جمہوریت نے ہر شہری کو اپنی پسند کا لیڈرمنتخب کرنے کا اختیار دیاہے۔ اسی لئے الیکشن بھی ہوتے ہیں ، چنانچہ اگر کوئی شہری کسی کو ووٹ نہیں دیتا تو یہ کوئی جرم نہیں ہے مگرآج کی سیاست میں اسے بھی جرم بنا دیا گیا ہے، حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف ہی سے چلا کرتی ہے۔ مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو کہ ’’میں صرف ہندوؤں کے لیے کام کروں گا ‘‘ نفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جنون قرار دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ کہا کہ ہر وزیر اعلیٰ ایشور کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں آئین کے مطابق تمام شہریوں کے ساتھ انصاف کروں گا، یہاں تو صورتحال الٹ ہے۔ مولانا مدنی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ملک کو منصوبہ بند طریقہ سے مخصوص نظریاتی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آئینی اداروں کی ساکھ داؤ پر ہے، کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاچکاہے، اب آسام میں بھی یکساں سول کوڈ بل تھوپنے کی تیاری چل رہی ہے، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ وندے ماترم جیسے متنازع گیت کو قومی گیت قرار دیا جاچکاہے، بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں اسے لازمی بھی قرار دیا گیاہے، دوسری طرف مساجد، مقابر اور مدارس کو غیر قانونی کہہ کر مسمار کیا جارہاہے، مدرسوں کے تئیں ہر روز نئے نئے فرمان جاری کئے جارہے ہیں گویا ہر طرف ننگا ناچ ہے اور کھلے عام قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خاتون کی حاضر دماغی، گھر میں گھس آئے تیندوے سے بیٹے کو بچایا
مجلس عاملہ کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ ان حالات میں جمعیۃعلماء ہند قانونی جنگ لڑرہی ہے، کئی معاملوں میں عدالتوں سے اسے انصاف بھی مل چکاہے۔ جلد ہی مرکزی اور صوبائی سطح پر ایک مدرسہ بورڈ قائم کیا جائے گا، اس سے تمام مدارس کو جوڑاجائے گا اور مدارس کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے اجتماعی کوشش بھی کی جائے گی۔ اسی طرح یکساں سول کوڈ کے خلاف بھی ہماری قانونی لڑائی جاری ہے۔
مجلس میں کہا گیا کہ اس ضمن میں جمعیۃ علماء ہند مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے جن من گن کے مساوی درجہ دینے اور اس کے تمام ۶؍ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری اور تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسے دستور ہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے اسے فوری طور پر واپس لے۔ اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔ اسی طرح ایس آئی آر کی آڑمیں حقیقی شہریوں کو ووٹ سے محروم کردینے کی مہم پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ایس آئی آر نہیں این آر سی ہے اور اس کے ذریعہ متعدد ریاستوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ مغربی بنگال میں ۲۷؍ لاکھ ووٹروں کو مشکوک قراردے کر ووٹ کے حق سے محروم کردینا جمہوریت پر ایک سیاہ داغ ہے، رپورٹوں کے مطابق ان۲۷؍ لاکھ افراد میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ نفرت کے اس ماحول میں پیار و محبت کی خاطر فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں جگہ جگہ سدبھاؤنا اور خیرسگالی کے پیغام کوعام کرنے کے لئے سدبھاؤنا مہم چلائی جائے گی اور سدبھاؤنا اجلاس بھی منعقد کئے جائیں گے۔ یہ سدبھاؤنا مہم غیر سیاسی ہوگی اور اس نیک مہم میں جن لوگوں کو بھی شامل کیا جائے گاوہ بھی غیر سیاسی ہوں گے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ملک کی اکثریت اب بھی فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست کے خلاف ہے، وہ ملک میں امن واتحاد چاہتی ہے۔