Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری میں ریکارڈووٹنگ: الیکشن کمیشن

Updated: May 16, 2026, 10:00 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن کے مطابق بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری میں ریکارڈووٹنگ دیکھی گئی، یہ اضافہ علاقائی اور سیاسی رسہ کشی کے باوجود انتخابی شراکت کو ظاہر کرتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کی مشق کے بعد ریاستوں میں ہندوستانی عوام کی انتخابی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔الیکشن کمیشن کے نئے اعداد و شمار نہ صرف رائے دہندگیکی زیادہ فیصد بلکہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹروں کی مطلق تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ پانچ ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات کے بعد جاری کردہ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایس آئی آر کے عمل نے انتخابی فہرست کو بڑھانے اور اپ ڈیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں تمام علاقوں میں ووٹروں کی وسیع تر شرکت ہوئی۔
اعداد و شمار آسام، کیرلا، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری کا احاطہ کرتے ہیں، جہاں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ووٹنگ کی فیصد اور ووٹروں کی تعداد دونوں میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔ یہ طرزِعمل علاقائی اور سیاسی سیاق و سباق کے باوجود مسلسل انتخابی عمل میں شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔سب سے زیادہ اضافہ مغربی بنگال میں درج کیا گیا، جہاں۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ ۹۳؍ اعشاریہ ۷۱؍فیصد تک پہنچ گیا، جو آزادی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ حصہ لینے والے ووٹروں کی کل تعداد۲۰۲۱ء میں ۶۰۴۱۹۶۹۱؍ سے بڑھ کر ۶۳۸۴۲۸۴۳؍ ہوگئی۔الیکشن کمیشن کے تاریخی گراف نے۲۰۰۶ء ۳۹۲۹۴۹۷۱؍  ووٹروں سے مسلسل اضافہ بھی دکھایا۔

یہ بھی پڑھئے: انڈین میڈیکل اسوسی ایشن بھی نیٹ کے مرکزی امتحان کیخلاف

جبکہ تمل ناڈو میں ۸۶؍ اعشاریہ صفر ۳؍ فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، جسےالیکشن کمیشن نے آزادی کے بعد ریاست کی اب تک کی سب سے زیادہ انتخابی شرکت قرار دیا۔ حصہ لینے والے ووٹروں کی تعداد۲۰۲۱ء میں۴۶۳۴۴۵۹۰؍سے بڑھ کر۴۹۳۸۹۹۵۸؍ ہوگئی۔اس کے علاوہ کیرالا میں ۷۹؍ اعشاریہ ۵۳؍ فیصد  ٹرن آؤٹ درج کیا گیا، جس میں ۲۰۹۰۳۲۳۳؍کے مقابلے میں ۲۱۶۳۰۲۰۸؍ رائے دہندگان  نے حصہ لیا۔ حکام نے اسے اب تک کی سب سے زیادہ شرکت قرار دیا، جو ۲؍کروڑ ۱۶؍ لاکھ رائے دہندگان سے تجاوز کر گئی۔
اس کے علاوہ آسام میں ٹرن آؤٹ۸۶؍ اعشاریہ ۳۳؍ فیصد رہا، جبکہ حصہ لینے والے ووٹروں کی تعداد ۲۰۲۱ءمیں ۱۹۳۱۵۸۴۶؍سے بڑھ کر ۲۱۶۸۴۶۵۶؍ہوگئی۔جبکہ الیکشن کمیشن  کے گراف نے۱۹۸۵ء کے بعد سے ووٹروں کی شرکت میں مسلسل اضافہ دکھایا۔ساتھ ہی پڈوچیری میں ۹۱؍ اعشاریہ ۱۹؍فیصد ٹرن آؤٹ درج کیا گیا، جہاں ووٹرز کی تعداد ۲۰۲۱ء میں ۸۳۷۵۴۳؍سے بڑھ کر ۸۶۶۹۳۲؍ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: ایک اور دھچکا، ایک اور بابری، دھار کی کمال مولیٰ مسجد بھی ’’ہاتھ سے نکلی‘‘

ایکس پر ایک پوسٹ میںالیکشن کمیشن نے کہا کہ ، ’’پہلی بار ووٹ دینے والوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک، پڈوچیری نے شرکت کی طاقت دکھا دی۔ کمیشن نے کہا کہ خصوصی نظر ثانی کی مشق کا مقصد ۱۸؍ سال کے نئے رائے دہندگان کا  اندراج کرنا، انتخابی فہرستوں میں غلطیوں کو درست کرنا، دہرے یا نااہل اندراج کو ہٹانا، اور آبادیاتی تبدیلیوں کی عکاسی کے لیے ووٹر ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ حکام نے اس مشق کو نمائندگیِ عوام ایکٹ۱۹۵۰ء کے تحت آئینی ذمہ داری قرار دیا۔ دریں اثناء کمیشن نے اب۱۶؍ ریاستوں اور تین مرکزی علاقوں بشمول کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے، جس کا شیڈول جاری مردم شماری کے گھرانوں کی فہرست سازی کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK