جمیعت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ ایس آئی آر(SIR) کا عمل شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے خطرہ ہے، ساتھ ہی انہوںنے اس پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 2:14 PM IST | New Delhi
جمیعت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ ایس آئی آر(SIR) کا عمل شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے خطرہ ہے، ساتھ ہی انہوںنے اس پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔
جمیعت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے ایس آئی آر کے موجودہ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ووٹر لسٹوں کی نظرثانی نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔بدھ کو جاری ایک بیان میں مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں بھی ووٹر لسٹوں کی نظرثانی ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ ایس آئی آر اپنی نوعیت، طریقہ کار اور ممکنہ نتائج کے اعتبار سے بنیادی طور پر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ لاکھوں شہری سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے، متعدد دستاویزات جمع کرنے اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ تاہم انہیں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان کے نام انتخابی فہرستوں میں برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئینی حق رائے دہی سرکاری صوابدید کا تابع ہو جائے تو یہ ہندوستان کے جمہوری نظام کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہوگا۔انہوں نے یاد دلایا کہ جمیعت علمائے ہند نے شروع ہی سے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موجودہ ایس آئی آر قومی شہری رجسٹر (NRC) کا نیا روپ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں سے ابھرتے ہوئے رپورٹس ان خدشات کو تقویت دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کروانا ہے، نہ کہ افراد کی شہریت کا تعین کرنا۔ اگر انتخابی فہرستوں سے نام کاٹنا عملاً کسی شخص کی شہریت پر سوالیہ نشان بن جائے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔
مولانا مدنی نے مزید الزام لگایا کہ ایس آئی آر کی آڑ میں حقیقی شہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اور مبینہ طور پر کئی ریاستوں میں مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۲۷؍ لاکھ ووٹروں کو ’’مشکوک‘‘ قرار دینا اور ان کے ووٹ کے حق پر سوال اٹھانا جمہوریت پر ایک سنگین داغ ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں ایک قابل ذکر تعداد مسلمانوں کی ہے، جو پورے عمل کی غیرجانبداری اور انصاف پسندی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔انہوں نے نوٹ کیا کہ SIR کے اگلے مراحل شروع ہو چکے ہیں، لہٰذا تمام شہریوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر معمولی چوکسی، قانونی آگاہی اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں۔ تمام ضروری دستاویزات پہلے سے تیار رکھی جائیں، اور فارم کبھی بھی جلدی یا لاپروائی سے جمع نہ کریں، کیونکہ معمولی سی تکنیکی غلطی بعد میں سنگین قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔مولانا مدنی نے عوام کو یقین دلایا کہ ماضی کی طرح جمیعت علمائے ہند اپنے رضاکاروں، وکلا اور قانونی ماہرین کے نیٹ ورک کے ذریعے پورے ملک میں رہنمائی، دستاویزات کی تصدیق اور قانونی امداد فراہم کرتی رہے گی، تاکہ کوئی شہری لاعلمی یا تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر پھنسے مہاراشٹر کے نوجوانوں کی واپسی کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بڑھتا ہوا تاثر ہے کہ جاری انتخابی فہرستوں کی نظرثانی محض ووٹر لسٹوں کو درست کرنے تک محدود نہیں، بلکہ بعض حلقوں میں اسے مسلم ووٹروں کے انتخابی اثر کو کمزور کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ آسام میں حالیہ حد بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی خدشات اٹھائے گئے تھے کہ حلقوں کی نئی حد بندی مسلم ووٹروں کی انتخابی طاقت کو کم کرے گی، اور اب دوسری ریاستوں میں بھی ایسی ہی کوششیں ہو سکتی ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ جب انتظامیہ اور دیگر ادارے انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوں تو سپریم کورٹ عوام کے لیے آخری امید رہتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی دیانتداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے موثر رہنمائی فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پرعدلیہ کے ضمیر کو جگانے کی کوشش،چیف جسٹس کو اپوزیشن کا مکتوب
مزید برآں آسام میں NRC عمل کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمیعت علمائے ہند نے اس دوران ایک تاریخی قانونی جدوجہد لڑی، جس میں لاکھوں ہندو اور مسلم خاندانوں کو قانونی امداد فراہم کی اور لاتعداد ہندوستانی شہریوں کو غلط طور پر غیر ملکی قرار دیئے جانے سے بچایا۔ انہوں نے زور دیا کہ جمیعت کی جدوجہد کبھی بھی کسی ایک خاص معاشرے کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ آئین، انصاف اور ہر ہندوستانی شہری کے وقار کے تحفظ کے لیے تھی۔