Inquilab Logo Happiest Places to Work

مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں کو نفرت کی آگ کو محبت سے بجھانے کی تلقین کی

Updated: July 19, 2026, 12:05 PM IST | Abdullah Arshad | Lucknow

ملک کے حالات پر فکرمندی، جوہر یونیورسٹی کے انہدام کی تیاریوں کو ظلم کی انتہا قراردیا، سپریم کورٹ کی وکیل اندرا جے سنگھ نے دانشور طبقہ کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔

Maulana Arshad Madani addressing the meeting. Photo: INN
مولانا ارشد مدنی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے مسلمانوں کو ملک میں  پھیلی نفرت کی آگ کو اپنی محبت سے بجھا دینے کی تلقین کرتےہوئے کہا ہے کہ ’’ اسلام ہمیں عدل، احسان اور تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ ‘‘
لکھنؤ کے اٹل بہاری باجپئی کنونشن سینٹر میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنےوالے افراد کے ساتھ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہاکہ پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوں کے نشانہ پر تھے مگر پچھلے کچھ برسوں میں نفرت کی جو سیاست ہوئی ہے اس سے مسلمان اوراسلام دونوں فرقہ پرستوں کے نشانہ پرآچکے ہیں ، نفرت کی اس سیاست نے ملک کو ایک ایسے دوراہے پر لاکر کھڑاکیا ہے جہاں سے آگے کاکوئی راستہ نظرنہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ماحول کو بدلنا ہوگااوراس کے لئے ہر سطح پر عملی کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہ تبدیلی تب تک نہیں آئے گی جب تک کہ ہم دوسرے مذاہب کے ہم خیال لوگوں کو ایک ساتھ لاکر فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف آواز نہیں بلند کریں گے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ نفرت کی ان تیزآندھیوں میں جمعیۃعلماء ہند محبت کے چراغ روشن کرنے چلی ہے، اس مہم میں آپ بھی شامل ہیں اورملک کا ہر انصاف پسند شہری بھی۔ انہوں نے آگے کہا کہ حالات دھماکہ خیزضرور ہیں ، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے کرداروعمل سے اس مایوسی کو امید میں بدلنے کی کوشش کریں۔ مسلمانوں سے کہا کہ وہ سال میں کم از کم ایک بار اپنے غیر مسلم بھائیوں کو مقامی مدارس میں مدعو کریں تاکہ مسلمانوں کے خلاف چلائی جا رہی منفی مہم کا توڑ کیا جا سکے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے، اس کی وضاحت کی جائے اور مسلمانوں کے طرزِ زندگی، اصولوں اور عقائد سے آگاہ کیا جائے، تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کیا یہی وہ ہندو راشٹر ہے جو آپ چاہتے تھے ؟‘‘

رام پورمیں مولانا محمد علی جوہر یونی ورسٹی کےتنازع پر انہوں نے کہا کہ نقشہ کی منظوری کے بغیر عمارت کی تعمیر کوئی ایسا جرم نہیں کہ پوری عمارت کو ہی آپ ملبے کا ڈھیربنادیں۔ اس کیلئے جرمانہ بھی عائدکیا جاسکتاہے، اس بات کو بہرحال ملحوظ خاطررکھا جاناچاہیے کہ اگر ایسا کیا گیا تواس میں زیرتعلیم ہزاروں طلباکا کریئر برباد ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں مہمان خصوصی کے طورپر شریک بنارس کے سنکٹ موچن مندرکے مہنت ڈاکٹربشمبھرناتھ مشرانے کہا کہ ملک کی آزادی میں سب کا خون شامل ہے، اس مٹی میں سب کا لہوشامل ہے جسے ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات اسلئے پیداہوئے کہ اب لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ بلکہ ملک میں جو ناانصافی ہورہی ہے اس کے خلاف اب سب کو بولنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کی نامورخاتون وکیل اندراجے سنگھ نے کہا کہ آج کا اجلاس ایک پیغام ہے اتحاداوربھائی چارہ کا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین نے سب کو یکساں حقوق دیئے ہیں اورکسی کے ساتھ امتیازنہ برتنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ آئین ہی کی برکت ہے کہ میں سپریم کورٹ تک پہنچی، انہوں نے کہاملک کے حالات دیکھ کر میں اکثراداس رہتی تھی کہ اب ہمارے ملک کا کیا ہوگا، لیکن آج کے اس اجلاس کو دیکھ کر جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں یہ کہہ سکتی ہوں کہ اس ملک کو کوئی توڑنہیں سکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK