مومن پورہ کے متوسط اور مزدور طبقے کے غریب طلبہ کی تعلیم و تربیت کیلئے جمعیۃاہل حدیث ایجوکیشنل سوسائٹی نے ۱۹۷۵ء میں مولانا آزاد اُردو ہائی اسکول قائم کیا تھا تاکہ مالی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور خود کفیل ہوں۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 10:54 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
مومن پورہ کے متوسط اور مزدور طبقے کے غریب طلبہ کی تعلیم و تربیت کیلئے جمعیۃاہل حدیث ایجوکیشنل سوسائٹی نے ۱۹۷۵ء میں مولانا آزاد اُردو ہائی اسکول قائم کیا تھا تاکہ مالی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور خود کفیل ہوں۔
مومن پورہ کے متوسط اور مزدور طبقے کے غریب طلبہ کی تعلیم و تربیت کیلئے جمعیۃاہل حدیث ایجوکیشنل سوسائٹی نے ۱۹۷۵ء میں مولانا آزاد اُردو ہائی اسکول قائم کیا تھا تاکہ مالی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور خود کفیل ہوں۔ یہ اسکول ہندوستان کے اولین وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد سے موسوم ہے۔اس کے بانیان میں مولانا مختار احمد ندوی اور عبد العزیز انصاری (مرحوم) کے علاوہ شیخ محمد علی بجاش ، سیٹھ بچو علی، محمد صدیق چونے ، محمد اسحاق انصاری،عبد الحق گور اور قاری نجم الحسن وغیرہ شامل ہیں ۔ ان حضرات کی مساعیٔ جمیلہ نے اسکول کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور جس مقصد کو لے کر وہ چلے تھے، اس میں کامیابی ملی۔
یہ بھی پڑھئے:گوگل کانئے ڈیٹا سنٹر کو ٹھنڈا رکھنےکیلئے پانی کی جگہ ہوا کا استعمال
مولانا آزاد اُردو ہائی اسکول کی ہیڈمسٹریس نصرت انصاری کے مطابق ’’موجودہ دور میں انگریزی ذریعۂ تعلیم کے بڑھتے رحجان کی وجہ سے اردو اور دیگر زبانوں کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے لیکن ہم نےمحنتی اور ایماندار اساتذہ کی کوششوں سے ا پنے اسکول میں طلبہ کی مطلوبہ تعداد برقرار رکھی ہے جس کا ہمیں اطمینان ہے۔
نصرت انصاری صاحبہ کے بقول: ’’ گزشتہ ۲؍سال سے ہمارے اسکول کا رزلٹ کافی بہتر ہوا ہے۔ اسکول میں طلبہ کو کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے جس کیلئے رکن پارلیمان ملنددیورا اور مشہور اداکار سلمان خان کا تعاون حاصل ہے ۔ غیرنصابی سرگرمیوںمیں بھی ہمارے طلبہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےہیں۔‘‘ واضح رہے کہ اسکول، اُردو جنرل کوئز مقابلے میں ۴۰؍ اسکولوں میں اوّل مقام حاصل کرچکا ہے۔