شیوسینا (اُدھو)لیڈر کو ۱۷؍ نومبر کو ۲؍ بجے ذاتی طور پر حاضر رہنے کا حکم،نکھل واگھلے کو آن لائن پیش ہونے کی رعایت۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 12:42 PM IST | Agency | New Delhi
شیوسینا (اُدھو)لیڈر کو ۱۷؍ نومبر کو ۲؍ بجے ذاتی طور پر حاضر رہنے کا حکم،نکھل واگھلے کو آن لائن پیش ہونے کی رعایت۔
سپریم کورٹ کے خلاف تبصرہ پر توہین عدالت کے مقدمہ میں سختی برتتے ہوئے سپریم کورٹ نے شیوسینا (اُدھو) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت کو ۱۷؍ نومبر کو ۲؍ بجے ذاتی طو رپر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ صحافی نکھل واگھلے کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی ہے تاہم عدالت نے انہیں آن لائن پیشی کی اجازت ددی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور عدلیہ کے خلاف ان کے تبصروں پر سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست سے متعلق ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:’’منطقی تضاد کو بنگال کیلئےعبوری طور پر منظور کیاتھا‘‘
یہ درخواست اٹارنی جنرل آف انڈیا سے تحریری اجازت حاصل کرنے کے بعد دائر کی گئی تھی۔بدھ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی جانب سے سینئر وکلا پردیپ رائے اور راہل کوشک کے ساتھ ایڈووکیٹ پرگیہ بگھل اور مینیش دوبے پیش ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کئے گئے پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنجے راؤت اور نکھل واگھلے کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا کوئی احترام نہیں ہے۔نکھل واگلے کی وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ واگلے اپنے ٹوئٹس پر غیر مشروط اور مخلصانہ معذرت پیش کر چکے ہیں اوراپنا پوسٹ بھی حذف کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عمل کو جائز ٹھہرانے کی کوشش بھی نہیں کریں گے جس کے بعد عدلیہ نے نرمی کا مظاہرہ کیا۔