ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیاکہ اس معاہدہ کا تعلق جنگ کے خطرات میں تعاون اور مزاحمت سے ہے۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 11:02 AM IST | Ankara
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیاکہ اس معاہدہ کا تعلق جنگ کے خطرات میں تعاون اور مزاحمت سے ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ میں معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔مکہ دفاعی معاہدہ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اور جوہری طاقت پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔ معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بڑھتی ہوئی علاقائی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرات کے وقت تعاون اور مزاحمت کو گہرا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سابق صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں مبتلا: ہنـٹر بائیڈن
ترکی کی سرکاری انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اصرار کیا کہ تینوں ممالک کسی خاص ریاست کو اس وقت تک مخالف نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ ان کے خلاف معاندانہ کارروائی نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی ہم نے ایسی کسی چیز پر دستخط کیے ہیں جو ایک مشترکہ خطرے کی وضاحت کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرتا وہ ہمارے لئے ہدف نہیں ہے۔دوسری جانب دفاعی تعاون میں مصر کی بھی شمولیت متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ پائیدار دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے دفاعی معاہدے پر گزشتہ جمعہ کو دستخط کیے گئے تاہم امکان ہے کہ اس میں ایک اور ملک کو بھی شامل کیا جائے گا۔ترکی کے وزیر دفاع حاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ایک بار کچھ تکنیکی مسائل حل ہوجائیں تو مصر بھی معاہدہ میں شامل ہونے کے قریب ہے۔