Updated: September 28, 2026, 9:58 PM IST
| Meerut
سپریم کورٹ نے میرٹھ کے زون اے میں نشان زدہ ۱۶؍ ہزار ۷۲۶؍ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ پہلے مکینوں کو جگہ خالی کرنے کا نوٹس دیا جائے، اس کے بعد تعمیرات کو سیل کرکے مسمار کیا جائے۔ ان میں ۱۲؍ ہزار ۹۰۷؍ رہائشی، ۸۷۴؍ رہائشی و غیر رہائشی اور ۲؍ ہزار ۹۴۵؍ غیر رہائشی تعمیرات شامل ہیں۔ عدالت نے اولدیپور میں غیر قانونی کالونیوں اور تعمیرات کی تفصیلی جانچ کیلئے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بھی قائم کیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے میرٹھ میں بڑے پیمانے پر غیر مجاز تعمیرات کے معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے زون اے میں نشان زدہ ۱۶؍ ہزار ۷۲۶؍ تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ نے حکام کو ہدایت دی کہ پہلے ان تعمیرات کے مکینوں کو جگہ خالی کرنے کا نوٹس دیا جائے، اس کے بعد انہیں سیل کرکے مسمار کیا جائے۔ عدالت کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق میرٹھ شہر کو زون اے، بی، سی اور ڈی میں تقسیم کرکے تعمیرات کا سروے کیا گیا۔ زون اے میں ۱۶؍ ٹیموں کے ذریعے کیے گئے سروے میں ۱۶؍ ہزار ۷۲۶؍ تعمیرات کو غیر قانونی یا غیر مجاز قرار دیا گیا۔ ان میں ۱۲؍ ہزار ۹۰۷؍ رہائشی، ۸۷۴؍ رہائشی و غیر رہائشی اور ۲؍ ہزار ۹۴۵؍ غیر رہائشی تعمیرات شامل ہیں۔ عدالت نے زون بی، سی اور ڈی کی بھی جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کارروائی کا پہلا مرحلہ متعلقہ عمارتوں کو خالی کرانا اور سیل کرنا ہوگا۔ بنچ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بعض غیر مجاز تعمیرات خستہ حال ہوسکتی ہیں اور ان کے منہدم ہونے سے جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی حادثے میں بے قصور لوگوں کی جان جاتی ہے تو ذمہ دار سرکاری افسر کو ذاتی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آر ایف ٹی آئی میں طلبہ پر حملہ، انوراگ کشیپ سمیت کئی فلمی شخصیات کی مذمت
عدالت نے لازمی سیٹ بیک ایریا میں غیر مجاز تعمیرات کے معاملے میں بھی کارروائی تیز کرنے کا حکم دیا۔ پہلے ۲۰۱؍ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے ۶۳؍ میں غیر مجاز تعمیرات مکمل طور پر ہٹائی یا مسمار کی جاچکی ہیں، جبکہ باقی ۱۳۸؍ جائیدادوں میں کارروائی ابھی باقی ہے۔ عدالت نے ان ۱۳۸؍ جائیدادوں کے غیر مجاز حصوں کو بھی جلد از جلد منہدم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم اس معاملے کی اپریل میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ میرٹھ میں ۸۵۹؍ غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں ۴۴؍ جائیدادیں ایسی تھیں جنہیں رہائشی استعمال سے غیر قانونی طور پر تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا۔ ان ۴۴؍ جائیدادوں میں ۶؍ اسکول، ۶؍ اسپتال، ۴؍ بینکوئٹ ہال، ۳؍ قومی بینک اور ایک غیر بینکاری مالیاتی کمپنی شامل تھی۔ ۲۱؍ ستمبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ ان ۴۴؍ جائیدادوں میں سے ۲۰؍ کو پہلے ہی منہدم کیا جاچکا ہے۔ عدالت نے باقی ۲۴؍ سیل شدہ جائیدادوں کو بھی جلد از جلد منہدم کرنے کی ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھئے: یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ کا فوری روک سے انکار
اولدیپور کی غیر قانونی کالونیوں کی بھی جانچ
سپریم کورٹ نے میرٹھ کے مضافاتی علاقے اولدیپور میں بڑے پیمانے پر قائم غیر قانونی رہائشی کالونیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے ان تمام غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی وسیع پیمانے پر جانچ کیلئے سابق سپریم کورٹ جج جسٹس سدھانشو دھولیا کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا ہے۔ کمیشن یہ جانچ کرے گا کہ اولدیپور میں جن زمینوں پر غیر قانونی کالونیاں قائم ہوئی ہیں، وہ سرکاری ملکیت ہیں یا نجی افراد کی؛ اگر زمین نجی ملکیت کی ہے تو زمین مالکان اور خریداروں کے درمیان لین دین کس طریقے سے ہوا؛ اور میرٹھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پانچ سال سے زیادہ عرصے تک ان غیر قانونی کالونیوں کے قیام کو کیوں نہیں روکا۔ کمیشن یہ بھی جانچ کرے گا کہ کہیں ان کالونیوں کے قیام میں میرٹھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت یا چشم پوشی تو شامل نہیں تھی۔ ریاستی حکومت کو کمیشن کے اخراجات کیلئے ایک ہفتے کے اندر سپریم کورٹ کی رجسٹری میں ۳۵؍ لاکھ روپے جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ میرٹھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کمشنر پی گوروپرساد کو کمیشن کے ساتھ رابطے کیلئے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔
عدالت نے اولدیپور سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے ساتھ مسماری کا ملبہ روزانہ ہٹانے کی بھی ہدایت دی ہے، تاکہ شہریوں کو آمدورفت اور دیگر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔