Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیراعظم کی فیس بک پوسٹ پر عارضی پابندی کے معاملے پر میٹا نے معذرت کر لی

Updated: August 06, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi

سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے وزیراعظم نریندر مودی کی فیس بک پوسٹ پر عارضی پابندی لگنے کے معاملے پر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔ کمپنی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کیپلن نے کہا کہ یہ پابندی کمپنی کی غلطی کے باعث لگی تھی اور اس پر مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے براہ راست معذرت کی گئی ہے۔

Meta.Photo:INN
میٹا کمپنی۔ تصویر:آئی این این

سوشل میڈیا کمپنی  میٹا  نے وزیراعظم  نریندر مودی  کی فیس بک پوسٹ پر عارضی پابندی لگنے کے معاملے پر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔ کمپنی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کیپلن  نے کہا کہ یہ پابندی کمپنی کی غلطی کے باعث لگی تھی اور اس پر مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی  اشونی ویشنو  سے براہ راست معذرت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے سے روپے میں مضبوطی کا امکان: سنجے ملہوترا


میٹا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں جوئل کیپلن نے کہا’’وزیراعظم مودی کی پوسٹ پر لگنے والی پابندی ہماری غلطی تھی  اور میں نے میٹا کی جانب سے وزیر سے اس پر معذرت کی ہے۔ بدھ کے روز جوئل کیپلن میٹا کے ایک عالمی وفد کے ساتھ اشونی ویشنو سے ملاقات کے لیے نئی دہلی پہنچے تھے۔ اس ملاقات کے دوران کمپنی نے اپنے پلیٹ فارمز کے آپریشن اور مواد کی نگرانی (Content Moderation) سے متعلق بعض خامیوں اور غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔
وزیر سے ملاقات سے قبل میٹا کے وفد نے آئی ٹی سکریٹری  ایس کرشنن سے بھی الگ ملاقات کی، جس میں پلیٹ فارم کے آپریشن سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ معذرت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان میں میٹا کی مواد کی نگرانی کی پالیسیوں اور اس کے پلیٹ فارمز کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی فیس بک پوسٹ کچھ وقت کے لیے صارفین کو نظر نہ آنے کے بعد کمپنی کی پالیسیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس سے قبل میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارک زکربرگ  نے بھی کمپنی کے پلیٹ فارمز پر قابل اعتراض اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ اور آپریشنل خامیوں پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زکربرگ نے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کمپنی کی غلطیوں پر ندامت ظاہر کی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ہندوستانی حکام نے میٹا کو واضح طور پر بتایا کہ اگر کوئی پلیٹ فارم خود یہ فیصلہ کرے کہ کون سا مواد کس صارف تک پہنچے گا، تو ہندوستانی قانون کے تحت اسے مکمل طور پر غیر جانبدار ثالث (Neutral Intermediary) نہیں سمجھا جا سکتا۔حکام نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ملنے والا ’’سیف ہاربر‘‘ (Safe Harbour) یعنی قانونی تحفظ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بارش کے باعث آئرلینڈ اور افغانستان کے درمیان پہلا ون ڈے منسوخ


ذرائع کے مطابق، میٹا نے اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم کے آپریشن سے متعلق بعض معاملات میں غلطیاں ہوئیں اور کمپنی نے ان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی۔ یہ پیش رفت ہندوستان میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی اور مواد کے نظم و نسق سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK