Updated: October 20, 2026, 3:27 PM IST
| Mexico City
میکسیکو کے قصبے اوتومبا میں قائم بُرولینڈیا گدھوں کی ایسی پناہ گاہ ہے جہاں تقریباً ۱۰۰؍ جانوروں کو بدسلوکی، ترک کیے جانے اور ذبح ہونے کے خطرے سے بچا کر رکھا گیا ہے۔ اس کے بانی جرمن فلوریس جب اپنی گاڑی میں ’’زاکاتیکاس مارچ‘‘ کی دھن بجاتے ہوئے گاجریں لے کر نکلتے ہیں تو گدھے کھانے کی امید میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہ غیر معمولی منظر اس ملک میں گدھوں کی گھٹتی آبادی اور انسانوں کے ساتھ ان کے بدلتے رشتے کی کہانی بھی بیان کرتا ہے۔
میکسیکو میں گدھوں کی حفاظت اور بحالی کے لیے قائم پناہ گاہ بُرولینڈیا نے ایسے جانوروں کو نئی زندگی دینے کی منفرد مثال قائم کی ہے جنہیں کبھی دیہی معیشت اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا، لیکن مشینوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ان کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی۔ برطانوی اخبار دی گارجین کی فوٹو رپورٹ کے مطابق، جرمن فلوریس نے ۲۰۰۶ء میں اپنے خاندان کے ساتھ اس پناہ گاہ کی بنیاد رکھی، جہاں اب تقریباً ۱۰۰؍ گدھوں کو خوراک، علاج اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر جانور بدسلوکی، بے یارومددگار چھوڑ دیے جانے یا ذبح خانے پہنچنے کے خطرے سے بچائے گئے ہیں۔ اس پناہ گاہ کی سب سے دلچسپ روایت ’’زاکاتیکاس مارچ‘‘ کی دھن ہے۔ فلوریس جب اپنی گاڑی میں یہ موسیقی بجاتے ہوئے کھیتوں اور احاطے میں نکلتے ہیں تو گدھے اس آواز کو کھانے کی آمد سے جوڑ لیتے ہیں اور گاڑی کے قریب جمع ہونے لگتے ہیں۔ فلوریس کے مطابق، ’’جب وہ یہ دھن سنتے ہیں تو انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کھانا آنے والا ہے۔‘‘ وہ گاڑی سے گاجریں نکال کر انہیں کھلاتے ہیں۔ ان کے بقول گاجریں گدھوں کی پسندیدہ غذا ہیں اور وہ انہیں دیکھ کر خود کو روک نہیں پاتے۔
یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج
فلوریس کا اس جانور سے تعلق محض ایک پناہ گاہ چلانے تک محدود نہیں۔ بچپن میں ان کے پاس روبرتو نام کا ایک گدھا تھا جس کی مدد سے وہ اپنے خاندان کی مالی مشکلات کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ فلوریس ۱۳؍ برس کی عمر میں روبرتو کے ساتھ محلے کے لوگوں کا سودا سلف پہنچاتے تھے۔ اس کام سے ملنے والی بخشش سے وہ اسکول کی وردی، جوتے اور تعلیمی سامان خریدنے میں مدد حاصل کرتے تھے۔ وہ اس تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں محلے کا اوبر تھا، لوگوں کی فہرست کے مطابق ان کا سامان پہنچاتا تھا اور وہ مجھے بخشش دیتے تھے۔‘‘ اسی جانور نے ان کے لیے روزگار، خودداری اور تعلیم کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دی۔ اسی یاد نے برسوں بعد بُرولینڈیا کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ فلوریس کے مطابق، میکسیکو کے گدھوں کی آبادی میں تیزی سے کمی کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد انہوں نے مقامی حکومت سے بھی مدد طلب کی، لیکن خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر خاندان کے ساتھ خود کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پناہ گاہ کا مقصد ایسے جانوروں کو باعزت زندگی فراہم کرنا ہے جو عمر، بیماری، بدسلوکی یا مشینی ذرائع کے باعث کام کے قابل نہ رہنے پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں: میکرون کا احتجاج پر اظہارِ شرمندگی
میکسیکو میں گدھے ہسپانوی نوآبادیاتی دور میں افریقہ سے لائے گئے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ جانور مقامی ماحول سے مطابقت پیدا کرتے گئے اور زراعت، تعمیرات، سامان ڈھونے اور دیہی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔ کئی علاقوں میں گدھا محنت، صبر اور دیہی شناخت کی علامت بن گیا۔ لیکن ٹریکٹر، موٹر گاڑیوں اور دوسری مشینوں نے روایتی کاموں کی جگہ لی تو ان جانوروں کی افادیت کم ہونے لگی۔ نتیجتاً بعض مالکان نے انہیں چھوڑ دیا، جبکہ کچھ جانور بدسلوکی اور غذائی قلت کا شکار ہوگئے۔ گدھوں کی آبادی میں کمی کے پیچھے صرف مشینی ترقی ہی نہیں بلکہ غیر قانونی ذبح خانے بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ دی گارجین کے مطابق، بعض مقامات پر گدھوں کا گوشت سستے گائے کے گوشت کے نام پر فروخت کیے جانے یا اسے خشک، نمکین اور مسالہ دار اسنیک بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ایک اور تشویش ان کی کھال کی تجارت ہے، جسے چین میں روایتی دوا کے طور پر استعمال ہونے والی ای جیاو نامی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس تجارت کے حجم اور میکسیکو سے برآمد ہونے والی کھالوں کے درست اعداد و شمار کے بارے میں سرکاری سطح پر قابلِ اعتماد معلومات محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فجرِ یمن کارروائی کا ۱۴؍واں روز، حوثیوں سے شدید جھڑپیں
گدھوں کی آبادی کے اعداد و شمار بھی مختلف ذرائع میں یکساں نہیں۔ بُرولینڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق، میکسیکو میں گدھوں کی تعداد گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ وی اینیملز کی ایک رپورٹ میں مردم شماری کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ۱۹۹۱ء میں ملک میں تقریباً ۱۵؍ لاکھ گدھے تھے، جو ۲۰۲۰ء تک گھٹ کر تقریباً ۳؍ لاکھ رہ گئے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دیہی علاقوں میں جانوروں کی درست گنتی مشکل ہونے کے باعث حقیقی تعداد کے بارے میں غیر یقینی موجود ہے۔ بُرولینڈیا کے لیے ان جانوروں کی دیکھ بھال ایک مسلسل مالی اور عملی چیلنج ہے۔ پناہ گاہ میں موجود گدھوں کو روزانہ تقریباً ۴۰۰؍ کلوگرام جئی اور الفالفا فراہم کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ ماہانہ اخراجات تقریباً ۶؍ ہزار ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے خاندان عطیات، سرپرستی اور ہفتے کے اختتام پر آنے والے سیاحوں کی مدد پر انحصار کرتا ہے۔ پناہ گاہ میں جانوروں کو کھلانے، ان کے قریب وقت گزارنے اور ان کی دیکھ بھال کے طریقے سمجھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پرکاروائی کرے:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
اوتومبا میں ہر سال یکم مئی کو گدھوں کا قومی میلہ بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس میلے میں گدھوں کو رنگین لباس پہنانے اور دوڑانے جیسے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ فلوریس اس موقع پر بھی جانوروں کے بہتر برتاؤ کے لیے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی جانور کی ثقافتی اہمیت کا اعتراف اسی وقت بامعنی ہے جب اس کے ساتھ عزت اور شفقت کا سلوک بھی کیا جائے۔ فلوریس کے بیٹے راؤل بھی اب پناہ گاہ کے کام میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق، گدھوں نے طویل عرصے تک انسانوں کے لیے محنت کی، سامان ڈھویا اور دیہی معاشرے کی ترقی میں حصہ لیا؛ اس لیے ان کا تیزی سے غائب ہونا تشویش ناک ہے۔ بُرولینڈیا کی کہانی اسی احساس پر قائم ہے کہ مشینوں کے دور میں کسی جانور کی معاشی افادیت کم ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی زندگی کی قدر بھی ختم ہوجائے۔ گاجروں اور ’’زاکاتیکاس مارچ‘‘ کی دھن کے درمیان قائم یہ رشتہ ایک سادہ مگر اہم پیغام دیتا ہے: جن جانوروں نے انسانوں کا بوجھ اٹھایا، ان کی ضرورت ختم ہونے پر انسانوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔