Updated: August 24, 2026, 8:07 PM IST
| Washington
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار عبدالسید نے پاکستان میں جمہوری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو امریکی امداد کے معاملے پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ غیر مشروط طور پر پاکستان کو نہیں دیا جانا چاہیے۔
عمران خان اورعبدالسید۔ تصویر: ایکس
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار عبدالسید نے پاکستان کی سیاسی صورتحال، فوج کے سیاسی اثر و رسوخ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید پر کھل کر موقف ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی رہائی کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوری عمل اور سیاسی آزادیوں کی بحالی پر زور دیا۔ عبدالسید کے یہ ریمارکس مشی گن کے ساؤتھ فیلڈ میں پاکستانی نژاد امریکی برادری کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران سامنے آئے۔
پاکستان کی آزادی کی ۷۹؍ ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان اسوسی ایشن آف امریکہ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالسید نے کہا، ’’ہمیں یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس وقت جمہوریت کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘‘ انہوں نے پاکستان کے سیاسی نظام میں فوج کے اثر و رسوخ اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے۔ عبدالسید نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی طویل قید کا بھی حوالہ دیا۔ عمران خان ۲۰۲۳ء سے مختلف مقدمات کے باعث جیل میں ہیں اور ان کی پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی اداروں کے درمیان سیاسی کشیدگی گزشتہ کئی برس سے پاکستان کی سیاست کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ عبدالسید نے سیاسی لیڈروں کو بغیر دباؤ یا قید کے جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نوجوان امریکی یہودیوں میں اسرائیل سے بےرغبتی، سیاسی، مذہبی حلقوں میں تشویش: سروے
مشی گن کے سینیٹ امیدوار نے پاکستان کو امریکی امداد فراہم کرنے کے معاملے پر بھی اپنے موقف کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل کو بیرون ملک غیر مشروط طور پر خرچ کرنے کے بجائے امریکی عوام کی ضروریات پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ان کا یہ موقف ان کی وسیع تر خارجہ پالیسی سوچ سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس میں وہ بیرونی ممالک کو امریکی فوجی امداد کے عمومی طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ عبدالسید کی جانب سے پاکستان کے سیاسی نظام پر تنقید اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ اب محض سیاسی کارکن یا مبصر نہیں بلکہ مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ہیں۔ انہوں نے رواں ماہ ڈیموکریٹک پارٹی کا پرائمری الیکشن جیت کر نومبر کے عام انتخابات میں سابق ریپبلکن کانگریس مین مائیک راجرز کے ساتھ مقابلے کی راہ ہموار کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بازیابی کے بعد لاشیں دفنانے کی جگہ کم پڑ گئی
عبدالسید نے ڈیموکریٹک پرائمری میں چار مرتبہ منتخب ہونے والی امریکی نمائندہ ہیلی اسٹیونز کو شکست دی تھی۔ ان کی کامیابی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے اہم کامیابی قرار دیا گیا، کیونکہ ان کی انتخابی مہم میں روایتی پارٹی قیادت سے اختلاف رکھنے والے کئی اہم نکات شامل رہے ہیں۔ عبدالسید پہلے بھی امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل فلسطین تنازع اور بیرونی ممالک کو امریکی فوجی امداد کے حوالے سے روایتی امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کے سیاسی موقف میں بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت اور امداد کے بجائے امریکی عوام کی ضروریات کو ترجیح دینے پر زور شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہیری ہمیشہ والد کے قریب واپس آنا چاہتے تھے؛ ولیم ناراض ہونگے: سابق شاہی بٹلر
مشی گن میں ہونے والا نومبر کا سینیٹ الیکشن امریکی سیاست کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ریاست میں مقابلہ سخت ہے اور اس نشست کا نتیجہ سینیٹ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ عبدالسید کی کامیابی انہیں امریکی سینیٹ میں پہنچنے والا پہلا مسلمان بنا سکتی ہے۔ عبدالسید کے حالیہ بیان سے پاکستان کی داخلی سیاست امریکی انتخابی بحث میں بھی نمایاں ہوئی ہے۔ پاکستانی نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد رکھنے والی ریاست میں ان کا پاکستان، عمران خان اور فوج کے سیاسی کردار پر موقف انتخابی اعتبار سے بھی اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ عبدالسید ایک امریکی سینیٹ امیدوار ہیں؛ ان کے بیانات ان کا سیاسی موقف ہیں اور امریکی حکومت کی موجودہ پالیسی یا سینیٹ کے فیصلے کی نمائندگی نہیں کرتے۔