Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس سلنڈرکی قلت سے مڈڈے میل اسکیم متاثر

Updated: March 18, 2026, 12:02 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

شہری علاقوں میں طلبہ کو کھانے کےبجائے فروٹ دیاجارہاہے۔دیہی علاقوں میں ۴۰؍فیصد اسکولوں میں لکڑی کے چولہے پر کھانا پکایاجارہاہے۔

9.5 Million Students From 86,210 Schools Benefit From The Mid-Day Meal Scheme Every Day.Photo: INN
مڈڈے میل اسکیم سے ۸۶؍ہزار ۲۱۰؍ اسکولوں کے ۹۵؍ لاکھ طلبہ روزانہ مستفید ہوتے ہیں۔ تصویر:آئی این این
 گیس سلنڈروںکی قلت سے مڈڈے میل کے طور پر طلبہ کو دیئے جانے والے کھانوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے  جس کی وجہ سے شہری علاقوں میں طلبہ کو مڈڈےمیل کے طور پر کھانوں کےبجائے پھل دیئے جا رہے ہیں جبکہ دیہی علاقوں کے۶۰؍فیصد اسکولوں میں اسکول مینجمنٹ کمیٹی ( ایس ایم سی) اپنے طورپر گیس کا انتظام کر کے طلبہ کو مڈڈےمیل فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہےاورتقریباً ۴۰؍فیصد اسکولوں میں لکڑی کے چولہے پر کھانا پکایا جا رہاہے ۔ حالانکہ محکمہ تعلیم نے گیس کمپنیوں کو اسکولوں کیلئے سلنڈر فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ،اس کے باوجود سلنڈر نہ ملنے سے مڈڈے میل اسکیم بری طرح متاثر ہے ۔
کرلا کے گاندھی ودیالیہ کے معلم جیونت کلکرنی نے اس تعلق سے بتایا کہ ’’ان دنوں امتحان کا ماحول ہے جس کی وجہ سے اسکول کا ٹائم ٹیبل بدلاہواہے۔ سیکڑوں طلبہ مڈڈے میل کے وقت اسکول میں نہیں ہوتے ہیں ۔اس لئے ان طلبہ کو مڈڈےمیل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن جوطلبہ مڈڈے میل کے وقت اسکول میں حاضر رہتے ہیں،  انہیں گیس کی قلت کی وجہ سے کھانا نہیں مل رہا ہےکیونکہ سینٹرل کچن جو مڈڈے میل فراہم کرتا ہے ، گیس نہ ہونے سے کھانا سپلائی نہیں کر پا رہا ہے۔ایسےمیںطلبہ کو کھانے کے بجائے فروٹ دیا جا رہا ہے ۔‘‘
جنوبی ممبئی کے ایک میونسپل اُردو اسکول کے سینئرمعلم نے بتایا کہ ’’ہمارے اسکول کے بیشتر طلبہ ان دنوں روزہ رکھ رہے ہیں ،لہٰذا ہم نے خود ہی سینٹرل کچن والوں سے کہہ کر ان طلبہ کیلئے کھانے کے بجائے بسکٹ اور پھل وغیرہ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔ ‘‘
 
 
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار کے مطابق ’’دیہی اضلاع کے اسکولوں میں طلبہ کیلئے ایس ایم سی کے ذریعے مڈڈے میل کا نظم کیا جاتا ہے ۔ گیس کی کمی سے ان دنوں مڈڈےمیل کا نظام بگڑا ہوا ہے۔ ۶۰؍فیصد اسکولوں میں ایس ایم سی کے اراکین اپنے طور پر گیس کا انتظام کر کے طلبہ کیلئے کھانےکا انتظام کر رہے ہیں جبکہ ۴۰؍فیصد سے زیادہ اسکولوں میں گیس کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں لکڑی کے چولہے پر کھانا پکایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر گیس نہ ملنے سے شدید پریشانی ہو رہی ہے ۔‘‘
 
 
دریں اثناء پرائمری ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر شردگوساوی نے ۱۲؍مارچ کو اس تعلق سے بھارت پیٹرولیم، ہندوستان پیٹرولیم اور انڈین آئل کے نام ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں اسکولوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس سپلائی کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔مکتوب میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مڈڈے میل اسکیم سے اوّل تا آٹھویں جماعت کے شہری اور دیہی علاقوں کے ۸۶؍ہزار ۲۱۰؍ اسکولوں کے کل ۹۵؍ لاکھ طلبہ روزانہ مستفید ہوتے ہیں لیکن گیس کے بحران سے یہ اسکیم بری طرح متاثر ہے اور طلبہ کے غذائیت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے ۔   ریاست میں استفادہ کنندگان کو خوراک سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے،چنانچہ اسکولوں کو گیس سپلائی کرنے کی کوشش کی جائے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK