Updated: April 17, 2026, 3:18 PM IST
| Munich
مشرق وسطیٰ میں بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ نے عالمی لگژری اشیا کی صنعت کی رفتار سست کر دی ہے، جس کے اثرات یورپی برانڈز کی فروخت اور مالی کارکردگی پر واضح ہیں۔ ہرمیس اور کیرنگ جیسے بڑے ناموں نے مانگ میں کمی، سیاحت میں گراوٹ اور کرنسی اثرات کے باعث کمزور نتائج رپورٹ کیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے عالمی معیشت کے ایک اہم شعبے، لگژری اشیا، کو براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں یورپ کے بڑے فیشن اور لگژری برانڈز کی فروخت اور منافع دباؤ کا شکار ہیں۔ خاص طور پر Hermès نے سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنسی سے ایڈجسٹ شدہ فروخت میں ۶ء۵؍ فیصد اضافہ رپورٹ کیا، تاہم یہ شرح مارکیٹ کی ۱ء۷؍ فیصد توقعات سے کم رہی، جس نے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے مالی اعداد و شمار کے مطابق، یورو کی مضبوطی نے آمدنی پر نمایاں اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں تقریباً ۲۹۰؍ ملین یورو کی کمی واقع ہوئی، جبکہ مجموعی آمدنی ایک فیصد کم ہو کر ۰۷ء۴؍ بلین تک محدود رہی۔ مارکیٹ کے ردعمل میں ہرمیس کے حصص میں ۱۰؍ فیصد سے زائد کمی ہوئی، جو تین سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: بی بی سی نے۲؍ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا
کمپنی کے حکام نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں سیاحت میں کمی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ خاص طور پر خلیجی خطے میں طلب میں واضح کمی آئی، جہاں فروخت میں ۶؍ فیصد کی کمی رپورٹ کی گئی۔ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر ایرک ڈو ہالگوئٹ نے کہا کہ ’’دبئی اور دیگر خلیجی شہروں میں لگژری شاپنگ مالز کی فروخت مارچ میں تقریباً ۴۰؍ فیصد تک گر گئی۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ سیاحوں کی آمد میں کمی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی کاروبار کو متاثر کیا، جہاں لگژری خریداری کا بڑا انحصار بین الاقوامی سیاحت پر ہوتا ہے۔ تاہم، کمپنی کے لیے ایک مثبت پہلو امریکی مارکیٹ رہا، جہاں فروخت میں ۲ء۱۷؍ فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو عالمی کمزوری کے باوجود ایک مضبوط کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر لاکھوں افراد خط افلاس سے نیچے جاسکتے ہیں: یو این ڈی پی کا انتباہ
یہ رجحان صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہا۔ Kering، جو Gucci جیسے بڑے برانڈز کی مالک ہے، نے بھی اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔ کمپنی کی فروخت میں ۸؍ فیصد کمی کے بعد اس کے حصص میں تقریباً ۱۰؍ فیصد گراوٹ آئی۔ ماہرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام نے نہ صرف مقامی صارفین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سیاحت کے بہاؤ کو بھی سست کر دیا ہے، جس کا براہ راست اثر فرانس جیسے ممالک پر پڑا ہے جہاں لگژری ریٹیل کا بڑا حصہ سیاحوں پر منحصر ہے۔ مزید برآں، کرنسی کے اتار چڑھاؤ، خاص طور پر یورو کی مضبوطی، نے یورپی برانڈز کی عالمی مسابقت کو کمزور کیا ہے، جس سے آمدنی کے اعداد و شمار مزید متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو لگژری سیکٹر کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔