Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر میں دودھ۲؍فی لیٹر مہنگا، ۱۱؍ اگست سے نئی قیمتیں نافذ

Updated: August 09, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر کے صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں گائے اور بھینس دونوں کے دودھ کی قیمتوں میں۲؍ فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتیں ۱۱؍اگست ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوں گی۔ یہ فیصلہ ’ملک پروڈیوسرس اورپروسیسرس ویلفیئر اسوسی ایشن ‘کی میٹنگ میں کیا گیا۔

Milk Production.Photo:INN
دودھ کی پیداوار۔ تصویر:آئی این این

مہاراشٹر کے صارفین کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں گائے اور بھینس دونوں کے دودھ کی قیمتوں میں۲؍ فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتیں ۱۱؍اگست ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوں گی۔ یہ فیصلہ ملک پروڈیوسرس اورپروسیسرس ویلفیئر اسوسی ایشن کی میٹنگ میں کیا گیا۔قیمتوں میں اضافے کے بعد گائے کا دودھ: ۶۰؍ سے بڑھ کر۶۲؍فی لیٹر۔ بھینس کا دودھ:۷۶؍ سے بڑھ کر ۷۸؍ فی لیٹر ہے۔
 دودھ مہنگا کرنے کی وجہ کیا ہے؟
ڈیری شعبے سے وابستہ تنظیموں کے مطابق دودھ کی پیداوار اور سپلائی سے متعلق اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر  ڈیزل اور دیگر آپریشنل اخراجات  بڑھنے سے ڈیری کمپنیوں اور دودھ پیدا کرنے والے کسانوں پر لاگت کا دباؤ بڑھا ہے۔ اسی وجہ سے صارفین کے لیے دودھ کی قیمت میں ۲؍فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٖراکنگ اسٹار یش کی فلم’’ٹاکسک‘‘ کا ٹریلر جاری

دہی، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات بھی مہنگی ہو سکتی ہیں
دودھ کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف براہِ راست دودھ خریدنے والے صارفین تک محدود نہیں رہے گا۔ دودھ سے تیار ہونے والی دہی، چھاچھ، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ۱۰؍ فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
گھریلو بجٹ پر کتنا اثر پڑے گا؟
اگر کوئی خاندان روزانہ ۲؍ لیٹر دودھ خریدتا ہے تو ۲؍ فی لیٹر اضافے کے باعث: روزانہ ۴؍اضافی خرچ ہوگا۔ یعنی ۳۰؍ دن میں تقریباً ۱۲۰؍کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اسی طرح اگر کسی خاندان کی روزانہ کھپت ۳؍ لیٹر ہے تو اس کا اضافی ماہانہ خرچ تقریباً ۱۸۰؍ہو جائے گا۔
۱۱؍ اگست سے نئی قیمتیں
مہاراشٹر میں دودھ کی نئی قیمتیں ۱۱؍ اگست ۲۰۲۶ء سے نافذہوں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ۱۰؍ اگست تک پرانی قیمتوں پر دودھ دستیاب ہو سکتا ہے، جبکہ ۱۱؍ اگست سے صارفین کو نئی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سپر جائنٹس نےشکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے کی امیدیں برقرار رکھیں

کسانوں اور ڈیری صنعت پر بھی نظر
 دودھ کی قیمت میں تبدیلی کا ایک اہم پہلو کسانوں کو ملنے والی خریداری قیمت بھی ہے۔ مرکزی حکومت پہلے پارلیمنٹ میں واضح کر چکی ہے کہ دودھ کی خرید اور فروخت کی قیمتیں بنیادی طور پر کوآپریٹو اور نجی ڈیری کمپنیاں پیداواری لاگت، ڈیری مصنوعات کے اسٹاک اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے جون  ۲۰۲۵ء کے لیے مہاراشٹر کے اعداد و شمار کے مطابق دودھ کی اوسط خریداری قیمت تقریباً ۴۹؍فی کلوگرام  جبکہ اوسط فروخت قیمت تقریباً  ۷۰؍فی لیٹر تھی۔
عام صارفین پر اثر
دودھ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں شامل ہے، اس لیے ۲؍فی لیٹر کا اضافہ بظاہر معمولی نظر آنے کے باوجود خاندانوں کے ماہانہ بجٹ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ سے تیار ہونے والی اشیا جیسے  چائے، کافی، دہی، چھاچھ اور پنیر کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ اگر ڈیری مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں تو صارفین پر مجموعی مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK