کورونا وائرس کے سبب لاکھوں ملازمین ’سمندری جیلوں ‘ میں قید

Updated: July 11, 2020, 10:37 AM IST | Washington

دنیا بھر میں مال بردار جہازوں پر ڈیوٹی انجام دینے والے تقریباً ۲؍ لاکھ لوگوں کو نہ خشکی پر اترنے کی اجازت ہے ، نہ ہی اپنے گھر جانے کی، یہ لوگ غیر معینہ مدت کیلئے اپنے اہل خانہ سے دور ، اپنے اپنے جہازوں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس کی وجہ سے مختلف ممالک میں عائدلاک ڈاؤن سے سب واقف ہیں لیکن ان لاکھوں افراد کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں جو کئی مہینوں سے لاک ڈائون کے سبب سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں ان بہتی ہوئی جیلوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو ما ل بردار جہازوں پر ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔ یہ جہاز ایک سے دوسری جگہ سامان پہنچارہے ہیں ، لیکن عملے کو بندرگاہ پر اترنے اور گھر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی جگہ خشکی سے کسی اور کو بلانے سے جہاز پر بھی کوروناپھیلنے کا خدشہ ہے۔ دوسری وجہ وہی کہ دنیا بھر میں آمدورفت پر پابندیاں عائد ہیں ۔ واضح رہے کہ خوراک، تیل اور دواؤں سمیت دنیا بھر میں ۸۰؍ فیصد اشیا کی تجارت بحری جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
 ہندوستان سےتعلق رکھنے والی پرینکا خلیج میکسیکو میں موجود دبئی کے بحری جہاز کی فرسٹ آفیسر ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دسمبر میں آئل ٹینکر پر آئی تھیں اور اپریل میں وطن واپس جانا تھا۔ لیکن کورونا کی وجہ سے وہ اور ان کے ۲۳؍ساتھی جہاز پر پھنس گئے ہیں اور واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔پرینکا نے کہا کہ عملے کو مشکل زندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سب جسمانی اور ذہنی طور پر تھکن کا شکار ہیں ۔ بیشتر لوگ۷؍ مہینے سے جہاز پر ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں دس گیارہ مہینے ہوچکے ہیں ۔پرینکا نے کہا کہ امیگریشن حکام کام نہیں کررہے ہیں ۔ بہت سی ائیرلائنز کام نہیں کررہیں ۔ اس صورتحال میں زندگی جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ عملہ صرف اپنےتعلق سے نہیں بلکہ وطن میں موجود اپنے اہل خانہ کیلئے بھی پریشان ہے۔
 ہانگ کانگ کی بندرگاہ بے شمار بحری جہازوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہاں سے مشرق اور مغرب کے راستے ملتے ہیں ۔ ہانگ کانگ حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ بحری جہازوں کے عملے کی واپسی کیلئے تعاون کرے گی۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عملے کے کسی رکن کی گھر واپسی کیلئے کئی حکومتوں اور دیگر اداروں سے اجازت لینے کے علاوہ متبادل کارکن کے ویزا اور سفر کا انتظام بھی کرنا پڑتا ہے اور موجودہ حالات میں ایسا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ پرینکا جس جہاز پر ہیں ، وہ شپنگ کمپنی ویلن گروپ کا ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹیو فرینک کولز کو معاملے کی سنگینی کا پورا احساس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ۷؍ ہزار کارکنوں میں سے بیشتر کے کنٹریکٹ ختم ہوچکے ہیں ۔ ان کی واپسی کا بندوبست کرنے کیلئے وہ ہرممکن کوشش کررہے ہیں ۔فرینک کولز نے کہا کہ موجودہ بحران کے دوران دنیا بھر کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کے اندر ذہنی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس بحران سے پہلے بحری جہازوں کے عملے میں ۲۰؍ فیصدملازمین ذہنی دباؤ کا شکار رہتے تھے اور اس کی وجہ سے خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔ اب اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس بحران میں ان کی شرح کس قدر بڑھ سکتی ہے۔
 انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بحری جہازوں پر لگ بھگ ۲؍ لاکھ کارکن پھنسے ہوئے ہیں ۔فلپائن کے مرون لیگن ایک جہاز پر سیکنڈ آفیسر ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ۱۱؍ماہ سے جہاز پر موجود ہیں ۔ انھیں مارچ میں گھر واپس جانا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے سرحدیں بند ہوگئیں اور وہ جہاز پر پھنس گئے۔ وہ گھر واپس جانے اور اپنے تینوں بچوں کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہیں ۔مرون نے کہا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ وہ لوگ اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر مشکل زندگی گزارتے ہیں اور عالمی معیشت کو چلانے کیلئے فرنٹ لائن ورکرس کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ پرینکا نے بھی زور دے کر کہا کہ بحری جہاز کے عملے کو لازمی خدمات دینے والے کارکن قرار دیا جانا چاہئے۔
  واضح رہے کہ لازمی خدمات کے زمرے میں آنے والے شعبوں میں کام کرنے والوں کو آمدورفت کی اجازت ہے اور ان پر سفر کی بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ حکومتوں نے مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کیلئے انتظامات کئے لیکن جہاز پر کام کرنے والوں کیلئے ایسا نہیں کیا جا سکا کیونکہ اگر انہیں گھر بھیج دیا گیا تو ان کی جگہ دوسروں کو لانا ہوگا کیونکہ جہاز کو دکانوں یا طیاروں کی طرح بند کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK