ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ یو پی آئی لین دین پر معمولی فیس لگانے سے اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ فی الحال یو پی آئی لین دین کے اعداد و شمار میں کوئی کمی نہیں دکھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 5:07 PM IST | Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ یو پی آئی لین دین پر معمولی فیس لگانے سے اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ فی الحال یو پی آئی لین دین کے اعداد و شمار میں کوئی کمی نہیں دکھ رہی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے بدھ کے روز کہا کہ یو پی آئی لین دین پر معمولی فیس لگانے سے اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں ملہوترا نے کہا کہ فی الحال یو پی آئی لین دین کے اعداد و شمار میں کوئی کمی نہیں دکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں نہیں لگتا کہ معمولی فیس کا کوئی خاص اثر ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن کی’’دِرِیشیم ۳‘‘ نے دنیا بھر میں ۳۴۱؍ کروڑ روپے کا ہندسہ پار کرلیا
آنے والی ۱۵؍ اکتوبر۲۰۲۶ء سے مرچنٹ کے طور پر رجسٹرڈ یو پی آئی کھاتوں میں دو ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر ۴ء۰؍ فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) لگے گا۔ حکومت نے تاہم واضح کیا ہے کہ ذاتی کھاتوں سے ذاتی کھاتوں میں کیے گئے لین دین پر کوئی ایم ڈی آر نہیں لگے گا۔ روپے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آر بی آئی گورنر نے کہا کہ کئی رپورٹس کے مطابق روپیہ اس وقت اپنی حقیقی قدر سے کم سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی اپنے موقف پر قائم ہے کہ جب بھی کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ آئے گا مرکزی بینک مداخلت کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کے شائقین نے میسی کی الوداعی تقریب میں’’اصلی گوٹ‘‘ کو میدان میں اتار دیا
روپیہ آج دوپہر کے بعد ۴۹؍ پیسے ٹوٹ کر۸۵ء۹۶؍ روپے فی ڈالر تک گر گیا تھا۔ یہ ریکارڈ نچلی سطح کے کافی قریب ہے۔ ریزرو بینک کی خصوصی اسکیم کے تحت تارکین وطن ہندستانیوں (این آر آئیز) کے ذریعے ایف سی این آر (بی) کھاتوں میں آئے ۱۳۵؍ ارب ڈالر کی وجہ سے بینکوں کے پاس نقدی زیادہ ہونے کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر ملہوترا نے کہا کہ بینکوں سے توقع ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اس کا استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک یہ نہیں چاہتا کہ بینک جلدبازی میں بغیر سوچے سمجھے قرض دے کر اس رقم کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں نے اس کا استعمال شروع کر دیا ہے اور یہ ان کی جانب سے جولائی میں دیے گئے قرض میں ۱۹؍ فیصد اضافے میں نظر بھی آ رہا ہے۔ امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک معیشت میں زیادہ نقدی کی صورتحال ختم ہو جائے گی۔
امریکہ کے ذریعے ہندوستانی مصنوعات پر ۱۰۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی لگائے جانے کی صورت میں اس کے اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر آر بی آئی گورنر نے کہا کہ یقیناً اس کا منفی اثر پڑے گا، لیکن یہ کتنا ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کس سیکٹر پر کتنی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ عرصے میں کئی ممالک کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں سے تجارت کے نئے مواقع کھلے ہیں۔ اس سے امریکی ڈیوٹی میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔