Inquilab Logo Happiest Places to Work

آن لائن فارمیسی کیخلاف میرا بھائندر کے کیمسٹوں کا بھی احتجاج، تمام میڈیکل اسٹورز بند

Updated: May 21, 2026, 12:08 PM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

میڈیکل اسٹور مالکان نے سڑکوں پر اترکر نعرے بازی کی ۔ مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر غیر معینہ مدت کے لئے ہنگامی ہڑتال کا انتباہ دیا۔

Protest.Photo:INN
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
آن لائن فارمیسی اور انٹرنیٹ کے ذریعے ادویات کی غیر قانونی فروخت کے خلاف میرا بھائندر کیمسٹ ویلفیئر اسوسی ایشن نے آل انڈیا میڈیسن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی اپیل پر جمعرات کو میرا بھائندر (مغرب) سمیت پورے جڑواں شہر میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا۔ اس احتجاج کے دوران شہر کی تمام میڈیکل دکانیں بند رہیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔  کیمسٹوں نے سڑکوں پر اتر کر آن لائن فارمیسی کمپنیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے اس کاروبار کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ 
 
 
بغیرڈاکٹری نسخے کے نشہ آور اور ممنوعہ ادویات کی  ہوم ڈلیوری کا الزام 
میرا بھائندر میڈیکل اسوسی ایشن کے عہدیداران نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ’’آن لائن فارمیسی کمپنیاں ڈاکٹر کے نسخے (Prescription) کے بغیر ایسی ادویات دھڑلے سے گھروں تک پہنچا رہی ہیں جن کی فروخت پر سخت قوانین لاگو ہیں۔ ان میں نشہ آور گولیاں  اور اسقاطِ حمل کی غیر ضروری ادویات شامل ہیں۔‘‘کیمسٹوں کا دعویٰ ہے کہ آن لائن ایپس پر نسخوں کی تصدیق کا نظام انتہائی ناقص اور جعلی ہے، جہاں گاہک کی فرمائش پر تبدیل شدہ یا فرضی نسخے تیار کر لیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے نئی نسل تیزی سے نشے کی لت کا شکار ہو رہی ہے۔ 
 
 
اسوسی ایشن کے نمائندے نے `میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ احتجاج صرف مقامی سطح پر نہیں ہے بلکہ یہ ایک ملک گیر تحریک کا حصہ ہے۔ آج پورے ملک کے تقریباً ساڑھے ۱۲؍ لاکھ کیمسٹ اس ہڑتال میں شامل ہیں اور اپنی دکانیں بند رکھے ہوئے ہیں۔ کیمسٹوں کا بنیادی مطالبہ ہے کہ جی ایس آر ۲۰۱۸ء کا خاتمہ کیا جائے حکومت نے  ۲۰۱۸ میں آن لائن فارمیسی سے متعلق جو قوانین نافذ کیے تھے، انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ ڈرگ اینڈ کاسمیٹک ایکٹ کی پاسداری آن لائن ادویات کی فروخت موجودہ قانون کے تحت غیر قانونی ہے، کیونکہ اس میں ایسی ہوم ڈلیوری کا کوئی باقاعدہ ائینی متبادل موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔جب کیمسٹ نمائندوں سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی تو اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ تو انہوں نے سخت لہجے میں انتباہ دیا کہ:’’آج کا یہ بند صرف ایک ٹوکن اسٹرائیک (علامتی ہڑتال) ہے۔ ہم حکومت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا اور آن لائن ادویات کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی گئی، تو تمام کیمسٹ مل کر `ایمرجنسی شٹ ڈاؤن (غیر معینہ مدت کیلئے ہنگامی ہڑتال) پر چلے جائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔‘‘کیمسٹوں  نے واضح کیا کہ وہ ادویات کی تجارت کو اخلاقی اور قانونی دائرے میں دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں صرف ڈاکٹر کے پرچے پر ہی کیمسٹ کے ذریعے دوائیں دی جائیں، تاکہ عوام کی صحت اور نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK