بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے ’لینڈ مافیا‘ قرار دیا ۔بھائندر پاڑہ کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کیلئے کیس درج کرانے کا اعلان کیا۔
میرابھائندر کے رکن اسمبلی نریندرمہتا۔تصویر:آئی این این
میرا بھائندر کے رکن اسمبلی نریندر مہتا اور ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ نریندر مہتا نے پرتاپ سرنائک پر شدید حملہ کرتے ہوئے انہیں ملک کا سب سے بڑا ’لینڈ مافیا‘ قرار دیا ہے۔ یہ تنازع تھانے کے قریب بھائندر پاڑہ گاؤں میں مقامی آگری سماج کے گھروں کو مبینہ طور پر مسمار کئے جانے کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔
نریندر مہتا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پرتاپ سرنائک کی کمپنی ’ویہانگ ‘ نے غنڈوں کے ذریعے راتوں رات ’پوکلین ‘مشینوں کا استعمال کر کے مقامی بھومی پتروں کے گھر گرا دیئے۔ یہ کارروائی میونسپل کارپوریشن کے بجائے نجی طور پر زبردستی کی گئی تاکہ زمین پر قبضہ کیا جا سکے۔ متاثرہ خاندانوں کی خواتین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صورتحال ایسی تھی جیسے کوئی فساد ہو گیا ہو اور خواتین سرنائک کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سرنائک نے تھانے میں کئی جگہوں پر ناجائز قبضے کئے ہیں یہاں تک کہ شمشان گھاٹ کیلئےمختص جگہ پر بھی عمارت تعمیر کر دی ہے۔
جب نریندر مہتا سے ان کے اور پرتاپ سرنائک کے درمیان چل رہی سیاسی جنگ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ میرا بھائندر کی ترقی کے بجائے ذاتی لڑائی بن گئی ہے تو نریندرمہتا نے کہا کہ ’’یہ سیاست نہیں بلکہ غریب کسانوں اور بھومی پتروںکے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف جنگ ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے کاسر وڈولی پولیس اسٹیشن جا رہے ہیں تاکہ ایف آئی آر درج کرائی جاسکے۔اس معاملے پر اب تک پرتاپ سرنائک یا ان کی کمپنی کی جانب سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔