• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فارم -۷؍ کا غلط استعمال، الیکشن کمیشن کو اقدامات کی ہدایت

Updated: October 31, 2026, 12:00 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جانچ، اصلاحی اقدامات اور تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا، عرضی گزاروں کو کمیشن کے وکیل کو تفصیل فراہم کرنے کا مشورہ دیا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نےاترپردیش میں ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج کیلئے بڑے پیمانہ پر فارم ۷؍ کے غلط استعمال کانوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بے ضابطگیوں کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔  عدالت نے عرضی گزار وںکوبھی حکم دیا ہے کہ جو بے ضابطگیاں عدالت کے نوٹس میں لائی گئی ہیں، انہیں ایک نوٹ کی شکل میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سینئر وکیل کو فراہم کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس نوٹ کے موصول ہونے پر وہ  حقائق کا جائزہ لے، ضروری اصلاحی اقدامات کرے اور پھر تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے۔ 

پہلے بھی فارم ۷؍ پروضاحت مانگی جاچکی ہے

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی  اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ ان بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک نوٹ تیار کریں۔اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے چیف جسٹس کی بنچ کو بتایا کہ ۵؍اگست کو بھی عدالت نے الیکشن کمیشن سے ہماری اس عبوری درخواست پر جواب طلب کیا تھا جو کہ بی ایل اوز کے پاس فارم ۷؍جمع کرانے سے متعلق تھا۔ اس وقت چھتیس گڑھ، کیرالہ اور اتر پردیش کا معاملہ عدالت کے سامنے تھا،گرچہ  چھتیس گڑھ اور کیرالہ سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اترپردیش میں فارم ۷؍ سے متعلق اترپردیش کا معاملہ جوں کا توں برقرارہے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی ڈی بی آئی بینک کے معاملے پر سیتارمن کا راہل گاندھی کو جواب

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی غلط استعمال کو مانا

اس پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے بھی تسلیم کیا کہ فارم ۷؍ درخواستیں بڑی تعداد میں جمع کرائی گئی تھیں۔ انہوں  نے دعویٰ کیا کہ ان درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراف کیا کہ فارم ۷؍ بڑی تعداد میں جمع کرائے گئے تھے۔ افسران نے ان کی جانچ پڑتال کی اور تصدیق کی۔ یہ درخواستیں غلط تھیںاس لئے ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اس پر عرضی گزار کے وکیل نے چیف جسٹس کی بنچ کو بتایاکہ محض ایک انتخابی حلقہ میں ایک مخصوص برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے کیلئے ۳۲؍فارم جمع کرائے گئے۔

الیکشن کمیشن کے حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئےوکیل نے کہاکہ ریکارڈ میں موجود دو فارموں پر ’بی ایل اوکے دستخط ہیں۔ ان میں نمایاں تضادات ہیں اور ایسے حقائق موجود ہیں جن میں مطابقت پیدا کرنا ممکن نہیں۔وکیل نے مزید کہا کہ تلنگانہ اور کرناٹک میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آئے تھے، جہاں ایف آئی آر درج کے احکامات جاری  کئےگئے  لیکشن  یوپی  میں ایسا نہیں ہوا  اس  لئے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ 

بلرام پورمیں ۳۲؍نام غیر قانونی طور پر حذف،الٰہ آباد ہائی کورٹ برہم

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع بلرام پور کی ایک گرام پنچایت کی ووٹر لسٹ سے ۳۲؍ افراد کے نام غیر قانونی طور پر حذف کئے جانے کے معاملے میں ریاستی الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس آلوک ماتھر اور جسٹس ابدیش کمار چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ سنتوش کمار اور  ۳۱؍دیگر افراد کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزاروں نے الزام لگایا کہ پنچایت انتخابی فہرست پر نظرثانی کے دوران ان کے نام غیر قانونی طور پر حذف کر دیے گئے۔عرضی گزاروں کے مطابق ضلع بلرام پور کے بلاک تلسی پور کی گرام پنچایت روپ نگر کی حتمی پنچایت ووٹر لسٹ ۲۰۲۵ء میں ان کے نام شامل نہیں کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK