Updated: August 29, 2026, 10:05 PM IST
| Washington
موڈرنا اور مرک کی تیار کردہ ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے کینسر ویکسین نے آخری مرحلے کے تجربے میں کامیابی حاصل کرکے کینسر کے علاج میں نئی امید پیدا کردی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مریض کے مخصوص کینسر کے خلاف مدافعتی نظام کو تربیت دینے والے جدید علاج کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتی ہے۔
موڈرنا اور مرک کی تیار کردہ ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے کینسر ویکسین۔ تصویر: آئی این این
موڈرنا کے سی ای او اسٹیفین بینسل۱۳؍ اگست کی رات ایک لبنانی ریستوراں میں دوست کی سالگرہ منا رہے تھے کہ انہیں فون کال موصول ہوئی۔ کمپنی کی جانب سے مرک کے ساتھ مل کر تیار کی جانے والی ایم آر این اے کینسر ویکسین نے اپنا ہدف حاصل کرلیا تھا۔ یہ۱۰۰؍ سال سے زائد عرصے کی ناکام کوششوں کے بعد آخری مرحلے کے تجربات میں کسی علاجی کینسر ویکسین کی پہلی کامیابی تھی۔ کینسر کے ماہرین نے اسے ایسے دور کا آغاز قرار دیا جس میں ہر مریض کے کینسر کے مطابق ذاتی نوعیت کی ویکسین تیار کی جائے گی، جو مدافعتی نظام کو مریض کے اپنے کینسر کے خلاف لڑنے کی تربیت دے گی۔ ایک ہزار سے زائد مریضوں پر کئے گئے تجربے میں، جنہیں ابتدائی مرحلے کا میلانوما تھا، ویکسین نے رسولیوں کے دوبارہ نمودار ہونے یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے امکانات کو کم رکھا۔ اگرچہ تجربے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں، لیکن وال اسٹریٹ پہلے ہی اس ویکسین سے اربوں ڈالر کی ممکنہ فروخت کا اندازہ لگا رہی ہے۔
بینسل نے اس خبر کو۲۰۲۰ءکے اواخر کے اس لمحے سے تشبیہ دی جب موڈرنا نے اپنی کووڈ-۱۹؍ ویکسین کے تجربے کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں بینسل نے کہا، ’’یہ وہ لمحہ تھا جس کیلئے ہم نے بہت محنت کی تھی۔ ہم جانتے تھے کہ کووڈ کے دوران دنیا کیلئے کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ ‘‘ ان کے مطابق کینسر کے معاملے میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے، کیونکہ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر یہ بیماری تقریباً ہر شخص کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم، خوشی کا یہ لمحہ زیادہ دیر برقرار نہ رہا۔ بینسل نے کہا، ’’میں فوراً اس سوچ میں چلا گیا کہ ٹھیک ہے، اب ہمیں کون کون سے کام کرنے ہیں ؟‘‘ مرک ریسرچ لیبارٹریز کے صدر ڈین لی کا ردعمل بھی تقریباً ایسا ہی تھا۔ جب مرک کے عالمی کلینیکل ڈیولپمنٹ کے سربراہ ایلیاو بار نے انہیں فون کیا تو ان کے ذہن میں فوری طور پر کئی اہم کام تھے۔ بین الاقوامی کینسر کانفرنس میں پیش کرنے کیلئے اعداد و شمار تیار کرنا، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے جائزے کی تیاری کرنا اور اس تحقیق کی کامیابیوں کو جاری دیگر تجربات میں استعمال کرنا۔ لی کے مطابق، ’’یہ کوئی ’ہللوجہ‘ والا لمحہ نہیں تھا، بلکہ فوراً کام شروع ہوگیا۔ ‘‘
وہ یہاں تک کیسے پہنچے؟
مرک اور موڈرنا کیلئے یہ لمحہ تقریباً۱۰؍ سال کی محنت کا نتیجہ تھا۔ یہ بات کمپنیوں کے موجودہ اور سابق آٹھ عہدیداروں کے مطابق ہے۔ ۲۰۱۶ءمیں جب دونوں کمپنیوں نے کینسر ویکسین تیار کرنے کیلئے شراکت داری کا اعلان کیا تو وہ ایک الگ ویکسین منصوبے پر پہلے ہی ایک سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی تھیں۔ کینسر کے منصوبے کیلئے مرک نے۲۰۱۶ء میں ۲۰؍کروڑ ڈالر ابتدائی طور پر ادا کئے جبکہ۲۰۲۲ء میں مزید۲۵؍ کروڑ ڈالر دیئے۔ دونوں کمپنیاں اس منصوبے کے اخراجات اور منافع میں شریک ہیں۔ اس وقت مرک کی دوا کی ٹروڈا (Keytruda) نئی قسم کی ادویات، یعنی چیک پوائنٹ انہیبیٹرز، میں ایک طاقتور دوا کے طور پر سامنے آ رہی تھی۔ یہ ادویات مدافعتی نظام پر موجود قدرتی رکاوٹ کو دور کرکے اسے کینسر کے خلاف لڑنے کے قابل بناتی ہیں۔ مرک کے عہدیدار بار نے کہا، ’’کی ٹروڈا نے دنیا کو یہ سکھایا کہ ہاں، مدافعتی نظام کینسر کو پہچان سکتا ہے، لیکن کینسر اس نظام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں بہت ہوشیار ہے، اور کی ٹروڈا ان رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔ ‘‘
اس کے بعد مرک سمیت مختلف کمپنیوں نے مدافعتی نظام کو مزید متحرک کرنے کے طریقے تلاش کئے اور کی ٹروڈا کو نئی نسل کی امیونو تھراپی ادویات، مثلاً’ TIGIT inhibitors‘ کے ساتھ آزمایا، لیکن یہ طریقہ کامیاب نہیں ہوا۔ موڈرنا کے سابق چیف میڈیکل آفیسر تال زاکس، جو۲۰۱۵ءسے۲۰۲۱ء تک اس عہدے پر رہے، ۱۹۹۶ء میں اسرائیل سے امریکہ منتقل ہوئے تھے تاکہ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں کینسر ویکسین پر کام کرسکیں۔ زاکس نے کہا، ’’ہم اس وقت ناکام ہوئے تھے اور کئی سال تک ناکام ہوتے رہے۔ ‘‘تاہم، ان کا خیال تھا کہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی، چیک پوائنٹ انہیبیٹرز اور کم لاگت والی جینیاتی سیکوینسنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز کامیابی کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔
شراکت دار کی تلاش
موڈرنا کے پاس ایم آر این اے ٹیکنالوجی موجود تھی، لیکن ایک نئی اور نسبتاً چھوٹی کمپنی ہونے کی وجہ سے مہنگے کینسر تجربات کرنا اس کیلئے مشکل تھا۔ بینسل کے مطابق موڈرنا نے ان کمپنیوں سے بھی بات کی جن کے پاس چیک پوائنٹ انہیبیٹرز موجود تھے، لیکن وہ مرک کو اچھی طرح جانتے تھے اور کی ٹروڈا کے تجربات کرنے میں اس کے وسیع تجربے نے انہیں متاثر کیا۔ مرک کے لی کی ٹروڈا کو ’’معجزاتی دوا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ دوا کینسر کی۲۰؍ مختلف اقسام کے رسولیوں اور۴۵؍ مختلف اقسام و مراحل کے کینسر کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ تاہم، یہ اب بھی واضح نہیں کہ رسولی کے کون سے حصوں کو یہ دوا نشانہ بناتی ہے اور کچھ مریض اس کا دوسروں کے مقابلے میں بہتر ردعمل کیوں دیتے ہیں۔
میسنجر رائبونیوکلیک ایسڈ (mRNA) جسم کے ہر خلیے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا کام خلیے کے مرکزے سے جینیاتی ہدایات کو ان حصوں تک پہنچانا ہے جہاں مخصوص پروٹین تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ ویکسین، جسے انٹسمران آٹوجین (intismeran autogene) کہا جاتا ہے، مریض کی رسولی میں موجود مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کو نشانہ بنا کر مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیوں پر حملہ کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ اس سے پہلے تیار کی جانے والی کینسر ویکسینز میں ایک یا دو مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ ناکام رہیں۔ دونوں کمپنیوں نے اس ویکسین کو میلانوما کے مریضوں پر آزمانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ میلانوما میں دیگر کئی اقسام کے کینسر کے مقابلے میں زیادہ جینیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور چیک پوائنٹ انہیبیٹرز کے خلاف بھی اس کے اچھے نتائج سامنے آچکے تھے۔
انہوں نے ابتدائی مرحلے کے میلانوما کے ان مریضوں کو بھی منتخب کیا جن کی رسولیاں سرجری کے ذریعے نکالی جاچکی تھیں۔ اس سے کمپنیوں کو مریض کی رسولی کی بنیاد پر ایک مخصوص ویکسین تیار کرنے کیلئے اہم اضافی وقت مل گیا، جبکہ مدافعتی نظام کو بھی اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے مزید وقت حاصل ہوا۔ ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے کمپنیاں درجنوں جینیاتی تبدیلیوں کو بیک وقت نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ موڈرنا کے شریک بانی اور ایم آئی ٹی کے سائنس دان رابرٹ لینگر نے کہا کہ اس طریقے میں کامیابی کیلئے ’’بہت سے مواقع‘‘ موجود ہوتے ہیں، جس سے کامیاب ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ کمپنیوں نے ویکسین کو کی ٹروڈا کی اس صلاحیت کے ساتھ ملایا جو جسم کے مدافعتی نظام کے ٹی سیلز کو فعال کرتی ہے۔ یہی ٹی سیلز غیر معمولی خلیوں کو تلاش کرکے ان پر حملہ کرتے ہیں۔
مرک کے لی نے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کی ٹروڈا کا خاص کام مدافعتی نظام کے ’’جنگجو کتوں ‘‘ کو آزاد کرنا ہے۔ ان کے مطابق ویکسین ان کتوں کو مریض کے کینسر سے متعلق ۳۴؍مخصوص اہداف فراہم کرتی ہے جنہیں وہ پہچان سکیں، اور کامیابی کیلئے ان میں سے صرف ایک کا مؤثر ہونا کافی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ذاتی نوعیت کے علاج میں کتے کو آپ کی خوشبو مل جاتی ہے۔ ‘‘
اب آگے کیا ہوگا؟
اگر ویکسین کو منظوری مل جاتی ہے تو دونوں کمپنیوں کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ امریکہ میں اس کی منظوری اگلے سال تک ملنے کا امکان ہے۔ مرک کو اس دہائی کے آخر میں کی ٹروڈا کے پیٹنٹ کی میعاد ختم ہونے کا سامنا ہے۔ کی ٹروڈا حال ہی تک دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا تھی۔ دوسری جانب موڈرنا کیلئےیہ ویکسین کووڈ ویکسین کی گرتی ہوئی طلب کے درمیان ایک اہم سہارا اور کمپنی کی ساکھ کے لیے بڑا فروغ ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے متعدی بیماریوں کیلئے ایم آر این اے ویکسینز کی حفاظت اور مؤثریت پر بغیر ثبوت کے تنقید کی ہے اور اس شعبے سے متعلق۵۰؍ کروڑ ڈالر کے منصوبوں میں کٹوتی کی ہے۔ موڈرنا کے حصص، جو کووڈ ویکسین کے عروج کے دوران اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً۹۰؍ فیصد گر چکے تھے، ویکسین کے نتائج کے اعلان کے بعد سے۱۳۰؍ فیصد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اس ویکسین کی فروخت ۲۰۳۰ءتک ایک ارب ڈالر اور۲۰۳۵ء تک۳؍ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اب اگلا امتحان یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ طریقہ ایسے کینسر کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جن میں جینیاتی تبدیلیاں نسبتاً کم ہوتی ہیں، جن میں پھیپھڑوں، گردے اور لبلبے کے کینسر شامل ہیں۔ قریب مستقبل میں دونوں کمپنیاں میلانوما کے تجربے کے اعداد و شمار کا مزید جائزہ لیں گی تاکہ ویکسین کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ بینسل نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ انٹسمران کا آخری ورژن ہے۔ ‘‘