Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی افریقہ کا اسرائیل پراقوام متحدہ کی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام

Updated: August 29, 2026, 10:06 PM IST | Hague

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر اقوام متحدہ کی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا، غزہ میں انسانی جانوں کے نقصان میں اضافہ درج کیا گیا ہے،بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو جمع کرائی گئی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ غزہ کی ۱۰ ؍فیصد آبادی ہلاک یا زخمی ہو چکی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

محکمہ برائے بین الاقوامی تعلقات و تعاون نے جمعہ کو اعلان کیا کہ جنوبی افریقہ نے باضابطہ طور پر اسرائیل پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے تین قانونی طور پر پابند احکامات پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، اور عالمی ادارے کو شواہد کی دستاویز جمع کرائی ہے۔پریٹوریا نے منگل کو ایک درخواست میں کہا، ’’افسوس کے ساتھ، اسرائیل نے احکامات کی تعمیل نہیں کی،‘‘ اور اصرار کیا کہ وہ تل ابیب کی نسل کشی کنونشن کی مکمل اور فوری پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ’’دستیاب تمام راستے‘‘ تلاش کرتی رہے گی۔جنوبی افریقہ نے خبردار کیا کہ  اس سے پہلے کہ  بین الاقوامی  عدالت اپنا حتمی فیصلہ سنائے ،غزہ  میں فلسطینیوں کے حقوق تباہ ہو سکتے ہیں۔‘‘  ایک ایسی صورت حال جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ "خود آئی سی جے کی ساکھ" کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘

بعد ازاں دستاویز میں بتایا گیا کہ اگست تک، کم از کم ۷۳۷۰۴؍فلسطینی ہلاک اور ۱۷۴۷۳۵؍زخمی ہو چکے ہیں، جو فلسطینی آبادی کا ۱۰ فیصد سے زیادہ ہیں۔ مزید برآں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے، اسرائیلی فوج نے اوسطاً ہر روز ایک فلسطینی بچے کو قتل کیا ہے۔ ساتھ ہی درخواست میں کہا گیا کہ ۲۰۲۶ء میں فلسطینی خواتین میں اسقاط حمل کی شرح تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔جنوبی افریقہ نے زور دے کر کہا کہ’’ اسرائیل نے فلسطینیوں کو جبری  طور پر حراست میں لیا اور جلاوطن کیا، جنہیں بعد میں تشدد، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، اور ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘ مزید برآں رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اسرائیل نے مقامی صحافیوں کو قتل کیا اور اقوام متحدہ کےحمایت یافتہ تحقیقاتی اداروں کو غزہ میں داخل ہونے سے روکا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ہزاروں مریض فوری طبی منتقلی کے منتظر، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا اظہار تشویش

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۳ء کو آئی سی جے میں اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی، جس میں ۱۹۴۸ء کی نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے غزہ میں انسانی ہنگامی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی جے سے عبوری تدابیر نافذ کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے اس کے بعد ۲۶؍ جنوری، ۲۸؍ مارچ اور ۲۴ ؍مئی ۲۰۲۴ ءکو الگ الگ تین احکامات جاری کیے۔ ان فیصلوں میں اسرائیل  کو کنونشن کے تحت بیان کردہ اعمال کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ ججوں نے اسرائیلی فوج کو نسل کشی کے اقدامات کے خلاف حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے خاص طور پر رفح میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کو اپنی تعمیل کے بارے میں باقاعدہ رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ آئی سی جے اقوام متحدہ کا بنیادی عدالتی ادارہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK