Updated: March 06, 2026, 9:08 PM IST
| New Delhi
لینڈو نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اہم طاقت قرار دیا جو ۲۱ ویں صدی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
کرسٹوفر لینڈو۔ تصویر: ایکس
امریکی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے ’رائے سینا ڈائیلاگ‘ کے دوران واضح کردیا کہ امریکہ ہندوستان کو ایسے معاشی فوائد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا جن کا فائدہ اٹھا کر ماضی میں چین اس کا عالمی حریف بن گیا ہے۔ نئی دہلی میں جمعرات کو منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لینڈو نے کہا کہ واشنگٹن نے چین کے ساتھ اپنے ماضی کے معاشی روابط سے سبق سیکھا ہے اور وہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مختلف طرزِ عمل اپنائے گا۔ لینڈو نے کہا کہ ”ہندوستان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب ہم وہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے جو ہم نے ۲۰ سال قبل چین کے ساتھ کی تھیں۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ’ہم آپ کو یہ تمام منڈیاں تیار کرنے کی اجازت دیں گے‘ اور پھر خود تجارتی طور پر نقصان میں رہیں گے۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پرہندوستان کا بالآخر اظہار تعزیت
”تجارتی معاہدہ امریکی کارکنوں کے لئے منصفانہ ہونا چاہئے“
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان وسیع تر دو طرفہ تجارتی معاہدے پر جاری مذاکرات کے دوران لینڈو کے تبصرے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے ان مذاکرات کو ”تقریباً ختم ہونے کے قریب“ قرار دیا اور زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ امریکی کارکنوں کے لئے منصفانہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت امریکی خارجہ پالیسی میں قومی مفادات کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”ہم کوئی خیراتی ادارہ نہیں۔ ہم اقوامِ متحدہ نہیں ہیں۔“
اپنی تقریر میں، لینڈو نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اہم طاقت قرار دیا جو ۲۱ ویں صدی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران: ہندوستان میں ایل پی جی سپلائی متاثر، صرف ۳۰؍ دنوں کا اسٹاک
”امریکہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے“
ہندوستان کی بڑی آبادی، معاشی صلاحیت اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لینڈو نے کہا کہ ”میرا خیال ہے کہ یہ ایک ناقابلِ تردید بات ہے کہ یہ صدی ہندوستان کا عروج دیکھے گی۔“ لینڈو نے عالمی کشیدگی کے درمیان ہندوستان کو اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کی ترغیب بھی دی اور تجویز دی کہ امریکہ ہندوستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی توانائی کی برآمدات کو ہندوستان کی ترقی پزیر معیشت کے لئے ایک قابلِ اعتماد آپشن کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کے پاس امریکہ سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔“