Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲؍ سو سے زائد امیدوار مجرمانہ ریکارڈ کے حامل ہیں

Updated: January 12, 2026, 4:26 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ان امیدواروں کا تمام جماعتوں سےتعلق ہے۔ بی ایم سی انتخابات میں حصہ لینے والے چند امیدوار ایسے بھی ہیں جن کے خلاف ایک بھی مجرمانہ کیس نہیں ہے۔

A student wearing a vest with the EVM symbol while conducting a voter awareness campaign. Picture: PTI
ایک طالب علم ای وی ایم کی علامت والالباس پہن کر ووٹر بیداری مہم چلاتے ہوئے۔ تصویر:  پی ٹی آئی
شہر اور مضافات میں ۲۲۷؍ سیٹوں کیلئے ہونے والے بی ایم سی انتخابات میںجہاں ایک طرف ایک ہزار ۷؍ سو امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، وہیں دوسری طرف قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۱۷؍ امیدواروں میں ۲؍ سو سے زائد امیدوار ایسے ہیں جن کیخلاف شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ایک دو یا اس سے زائدمجرمانہ کیس درج ہیں ۔اس کے علاوہ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کے بی ایم سی انتخابات میں حصہ لینے والے چند امیدوار ایسے بھی ہیں جن کے خلاف ایک بھی مجرمانہ کیس نہیں ہے لیکن انہوں نے ۲۰۱۷ء میں الیکشن لڑنے کے بعد ۲۰۲۶ء میں اپنی جائیدادوں میں ہونے والے کروڑوں روپے کے اضافہ کے ساتھ پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے ۔
۱۵؍ جنوری کو عروس البلاد ممبئی کے شہری بنیادی سہولتوں کی امید لئےایک بار پھراپنی پسندیدہ پارٹی اور امیدوار کو ووٹ دے کر حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔  ہونے والے بی ایم سی چناؤ کو جیتنے کے لئےمیدان میں اترنے والے کل ۱۷؍ سو امیدواروں میں ۲۱۶؍امیدوار ایسے ہیں جن کے خلاف نہ صرف مجرمانہ کیس درج ہیں بلکہ ان کا تعلق برسر اقتدار یا اپوزیشن میں موجود بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہے ۔جن ۲؍ سو سے زائد امیدواروں کے خلاف سنگین یا معمولی مجرمانہ کیس درج ہیں ان میں برسر اقتدار پارٹی بی جے پی ، شندے سینا ،این سی پی اجیت پوار یا اپوزیشن میں موجود ادھو سینا، این سی پی شرد پوار اور نو نرمان سینا کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے امیدوار شامل ہیں۔
الیکشن لڑنے والے امیدواروں کے ذریعہ بھرے گئے پرچہ نامزدگی اور اس میں درج کی گئی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ مجرمانہ ریکارڈ کے حامل امیدواروں میں ادھو اور شندے سینا کے ۲۸؍ امیدوار شامل ہیںجبکہ نو نرمان سینا جن کے کل ۵۳؍ امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں ان میں ۲۲؍ امیدوارکیخلاف شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں مجرمانہ کیس درج ہیں۔ کل ۱۰۷؍ امیدوار ایسے ہیں جو مختلف چھوٹی پارٹیوں یا آزاد امیدوارکی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں ، ان کے خلاف مجرمانہ کیس درج ہیں ۔اس کے علاوہ انڈین نیشنل کانگریس کے ۱۶؍، بی جے پی کے ۱۴؍،بہوجن سماج پارٹی کے ۴؍ ، سماج وادی پارٹی کے ۴؍اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ۲؍ امیدوارں  کے خلاف مجرمانہ کیس درج ہیں ۔
بی ایم سی الیکشن میں ایک طرف جہاں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل ۲؍ سو سے زائد امیدوار میدان میں اترے ہیں ۔ وہیں اکثر و بیشتر امیدوار ایسے بھی ہیں جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے البتہ انہوںنے۲۰۱۷ء کے انتخابات کے بعد ۲۰۲۶ء کے اپنے پرچہ نامزدگی میں یعنی حلف نامہ میں اضافہ ہونے والی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں ۔ ۱۲۲؍ نمبر وارڈ سے بی جے پی کے امیدوار چندن شرما نے جن کے خلاف ایک بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے، نے اپنی ۸۴؍ کروڑ ۷۷؍ لاکھ ۹۹؍ ہزار ۶۳۵؍ منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیل فراہم کی ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۲۰۱۷ء میںان کے حلف نامہ کے مطابق ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد۱۸؍ کروڑایک لاکھ ۳۷؍ ہزار ۵۱۸؍ تھی ۔ اسی طرح شندے سینا کی وکھرولی وارڈ نمبر۱۶۶؍ سےالیکشن لڑنے والی امیدوارمینل توردے نے۵۵؍ کروڑ ۱۷؍ لاکھ سے زائداثاثہ ہونے کی تفصیل فراہم کی ہے۔تاہم ملنڈ ۱۰۵؍ وراڈ سے بی جے پی کی امیدوارانیتا ویتی جنہوں نے۲۰۱۷ء میں ۷؍ کروڑ جائیداد ہونے کی تفصیل فراہم کی تھی،نے ۲۰۲۵ء میں ۲۸؍ کروڑ ۸۸؍ لاکھ سے زائد اضافہ ہونے کی تفصیلات دی ہیں۔قابل غور بات یہ بھی ہے ۲۰۱۷ء میں الیکشن لڑنے والے بی جے پی اور شندے سینا کے اکثر امیدوار جو ۲۰۲۶ ء کا بی ایم سی الیکشن لڑ رہے ہیں ، نے کروڑوں روپے جائیدادوں میں اضافہ ہونے کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK