Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کی نسل کشی کو روکنے کیلئےمسلم ممالک مداخلت کیوں نہیں کر رہے: محمد حدید

Updated: March 21, 2025, 9:55 PM IST | Washington

محمد حدید، فلسطینی نژاد امریکی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور ماڈل جیجی اور بیلا حدید کے والد، نے ایک ویڈیو میں سوال کیا کہ طاقتور عرب اور مسلم ممالک یورپ اور امریکہ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی جنگ کو روکنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کر رہے ہیں۔

Famous model Bella Hadid`s father, Mohamed Hadid. Photo: X
مشہور ماڈل بیلا حدید کے والد محمد حدید۔ تصویر: ایکس

محمد حدید، جو فلسطینی نژاد امریکی بزنس ٹائیکون ہیں اور جن کا غزہ سے ذاتی تعلق ہے، کیونکہ وہ۱۹۴۸ء میں ناصرہ میں پیدا ہوئے تھے اور اسرائیلی قبضے کی وجہ سے مہاجر بن گئے تھے، نے عرب اور مسلم ممالک پر تنقید کی ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں پر دہشت گردی کا نیا دور شروع کر دیا ہے، جس نے جنگ بندی ختم کرکے حملوں میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔حدید نے بدھ کوایک ویڈیو میں کہا، کہ ’’ یہ دیکھ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرو۔ تمہارا پورے یورپ، پورے امریکہ، پورے عرب دنیا اور پورے اسلامی دنیا میں بہت بڑا اثر و رسوخ ہے۔ تم کہاں ہو ان فلسطینیوں کی مدد کرنے کیلئے جو روزانہ مر رہے ہیں؟‘‘"تم کیسے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اس بات سے لا تعلق رکھ سکتے ہو اوریہ سب دیکھ کر بھی سکون سے رہ سکتے ہو؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی حملوں میں ۲؍ دنوں میں۴۳۶؍ شہید، ۱۸۳؍ بچے اور ۸۹؍ خواتین شامل

واضح رہے کہ ۱۹؍ جنوری سے نافذ جنگ بندی کو اسرائیل نے یکطرفہ طور پر ختم کرکے  رات میں بمباری کرکے ۴۰۰؍ سے زائدفلسطینیوں کو نیند میں شہید کر دیا۔حدید نے مسلم ممالک سے سوال کیا کہ ایسے وقت میں جب فلسطینی بھوکے پیاسے، پناہ گاہوں میں رہنے کو مجبور ہیں، تم کس طرح ان کے درد سے بے بہرا رہ سکتے ہو۔ تم کہاں ہو؟ تم کسی سے بات کیوں نہیں کر رہے ہو؟انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک مذہبی ریاست نہیں ہے جبکہ یہودیت کو ایک محفوظ اور بہت ہی منصفانہ مذہب قرار دیا۔یہ صیہونیت ہے۔ یہ مجرم ہیں۔ مجرم، ان کے لیڈرسب جیل جائیں گے اور انہیں جیل جانا چاہیے، اور آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کو جیل جانا چاہیے۔ میں بہت سے آئی ڈی ایف فوجیوں کو سنتا ہوں۔ وہ اس پر پریشان ہیں جو انہوں نے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: ۱۸؍ مارچ غزہ کی تاریخ میں بچوں کیلئے بدترین دن، ۱۷۴؍ بچے جاں بحق

واضح رہے کہ ۷۵؍ سال قبل نقبہ کے دوران محمد حدید کے خاندان کو فلسطین سے جبراً اپنا گھر چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی تھی، کیونکہ ۷؍ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو صیہونی ملیشیا نے ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا تھا۔ نقبہ کے دوران، حدید خاندان پہلے لبنان اور پھر شام ہجرت کر گیا۔، حدید نے کہا، کہ ’’ ۲۰۱۵ء میںہم شام میں مہاجر بن گئے، اور ہم نے اپنا گھر صفد (اب شمالی اسرائیل میں) ایک یہودی خاندان کے ہاتھوں کھو دیا جسے ہم نے پناہ دی تھی جب وہ پولینڈ سے مہاجر تھے اور جہاز سے ایک ملک سے دوسرے ملک جا رہے تھے اور کوئی انہیں نہیں لے رہا تھا، وہ دو سال تک ہمارے مہمان رہے یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں مہاجر بنا دیا اور ہمیں اپنے ہی گھر سے نکال دیا۔‘‘انہوں نے انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ، یہ جان کر کہ اب وہ مہاجر ہیں، گھر سے ایک کمبل لینے کی کوشش کی تاکہ ان کے بچے سڑک پر ٹھنڈسے بچ سکیں،  لیکن یہودی خاندان نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی، اور نہ ہی انہیں فوٹو البم لینے دیا۔

یہ بھی پڑھئے: گلوبل ۱۹۵:عالمی عدالتوں میں "اسرائیلی فوج اور جنگی مجرموں" کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے وکلاء متحد

حدید نے تازہ ترین ویڈیو میں کہا، ’’صیہونی ریاست کو میرے خاندان اور میرے لوگوں کے قتل کو فلسطین میں روکنا چاہیے۔ عرب دنیا، کچھ کرو۔ یورپ والوں، کچھ کرو۔ دنیا کو اس ظلم، اس قبضے، اس بڑے پیمانے پر قتل کے خلاف اکٹھے ہونا چاہیے۔ اس نسل کشی کو روکنا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK