جے جے ،نائر ، کے ای ایم ،کوپر اوردیگر اسپتالوںکے مختلف محکموں کے ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نےبازوؤں پر سیاہ فیتہ باندھ کر ڈیوٹی کی۔اسٹاف کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
ڈومبیولی کے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹروں ،نرسوں اور دیگر طبی عملے پر ہونےوالے حملے کےخلاف اور اظہار یکجہتی کے تحت جمعرات کو شہر ومضافات کے جے جے ، نائر ، کے ای ایم اور کوپراسپتالوں میں طبی عملے نے سیاہ فیتہ باندھ کر احتجاج کیا۔
ٹوپی والا نیشنل میڈیکل کالج اوربی وائی ایل نائر اسپتال کے ڈاکٹروں نے مہاراشٹر اسوسی ایشن آف ریسیڈنٹ ڈاکٹرس (مارڈز) کی نگرانی میں خاموش اور علامتی مظاہرہ کیا ۔ تمام کلینکل، پیرا کلینکل اور پری کلینکل محکموں کے ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے اپنے معمول کے کام کے دوران سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج میں شرکت کی۔ احتجاج مکمل طور پر پرامن رہا۔ مریضوں کی خدمات میں کوئی خلل نہیں پڑا۔ آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (اوپی ڈی)، ایمرجنسی سروسیز، ان پیشنٹ سروسیز ، سرجری ڈپارٹمنٹ اور تمام ضروری صحت خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں ۔
علامتی احتجاج کے ذریعے، نائر ماڈرز نے ہیلتھ ورکرس کے خلاف ہر قسم کے تشدد کی شدید مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہر ڈاکٹر، نرس اور ہیلتھ ورکر کو تحفظ اور محفوظ ماحول میں کام کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔
نائر مارڈز نے حملہ آوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، صحت کے تمام اداروں میں موثر حفاظتی انتظامات اور ہیلتھ ورکرس کے خلاف تشدد پر’ زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی پر فوری عمل درآمد کے اپنے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔
کے ای ایم اسپتال کے ڈاکٹروںنے بھی اسپتال عملے پر حملے کے خلاف بازوؤں پر سیاہ ربن باندھ کر احتجاج کیا۔ تمام شعبہ جات کے ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے کالی پٹیاں باندھ کر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر ہیلتھ ورکرس پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج اسپتال کے کام یا مریضوں کی دیکھ بھال میں کسی رکاوٹ کے بغیر کیا گیا۔ تمام ضروری خدمات بلاتعطل جاری رہیں۔
کے ای ایم مارڈز نے کے ڈی ایم سی کے شاستری نگر اسپتال میں ہیلتھ ورکرس پر حملے کی شدید مذمت کی ۔ اس طرح کے واقعات صحت کی دیکھ بھال کے پورے نظام، سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی اور مریضوں کی خدمات کے بنیادی اصولوں پر براہ راست حملہ ہیں۔کے ای ایم مارڈزنےایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ہر ہیلتھ کارکن کا بنیادی حق ہے کہ وہ محفوظ اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا تشدد سے پاک ماحول میںکام کرے۔ اسپتال عملے کے خلاف تشدد کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ایسے واقعات کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے۔ اس تناظر میں کے ای ایم مارڈز پُر زور مطالبہ کرتا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت اور فوری قانونی کارروائی کی جائے، تمام صحت کے اداروں میں حفاظتی نظام کا فوری جائزہ لیا جائے اور اسے مضبوط کیا جائے ۔