Updated: August 27, 2026, 10:10 PM IST
| Mumbai
منڈے نے بتایا کہ ۲۵ مئی کو شروع ہونے والے ایف ڈی اے کے ریاست گیر فوڈ سیفٹی کریک ڈاؤن کے تحت اب تک ۳۱۰۰ سے زائد فوڈ بزنس آپریٹرز اور ڈرگ سیکٹر کے تقریباً ۱۰۰ اداروں کا معائنہ کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں ۱۶۵ لائسنس معطل کئے گئے اور تقریباً ۴۵۰ بہتری کے نوٹسز جاری کئے گئے۔
تکارام منڈے۔ تصویر: آئی این این
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈے نے تہواروں کے دنوں میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کے خلاف نفاذی کارروائیوں کا خاکہ پیش کرنے والے خصوصی فیسٹیول کیلنڈر تیار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد محکمے کی ملاوٹ مخالف مہم کو مزید منظم اور تہواروں کے لحاظ سے مخصوص بنانا ہے۔ منڈے نے بتایا کہ بڑے تہواروں کے دوران خوراک کا استعمال اور ملاوٹ کا متعلقہ خطرہ تیزی سے بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہدف پر مبنی منصوبہ بندی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
منڈے نے بدھ کے روز ممبئی پریس کلب میں تقریباً ۲۰۸ صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے تمام تہواروں اور ملاوٹ و دیگر چیزوں کے خلاف کارروائی کیلئے ۱۲ ماہ کا کیلنڈر پلان تیار کیا ہے۔“ انہوں نے منصوبے کی مخصوص تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھئے: احمد آباد: دائیں بازو کے احتجاج پر اسکول سے ملالہ اور این فرینک کی کتابیں خارج
ایف ڈی اے کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہواروں میں عام طور پر مٹھائیوں، دودھ اور اس سے بنی مصنوعات، خوردنی تیل، مصالحہ جات، اسنیکس اور دیگر غذائی اشیاء کی مانگ میں اضافہ دیکھنے ملتا ہے۔ ان کیٹیگریز کی اشیائے خوردونوش کو ملاوٹ اور دیگر خلاف ورزیوں پر بار بار ایف ڈی اے کی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صرف شکایات پر ردِعمل دینے یا خلاف ورزیاں سامنے آنے کے بعد ہی نفاذی مہمات شروع کرنے کے بجائے، یہ کیلنڈر محکمے کو حساس غذائی زمروں کی پہلے سے نشان دہی کرنے اور سال بھر مخصوص تہواروں کے دوران جانچ پڑتال کو تیز کرنے کی اجازت دے گا۔
ایف ڈی اے کے کریک ڈاؤن کا دفاع کرتے ہوئے منڈے نے کہا کہ ایف ڈی اے کاروباری اداروں کے بہانوں پر دھیان نہیں دیتا بلکہ حقائق کی بنیاد پر سخت کارروائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں اداروں کے دیئے گئے بہانوں پر توجہ نہیں دیتا۔ میں اپنے افسران سے کہتا ہوں کہ وہ حقائق کو دیکھیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی کی کارروائی غیر امتیازی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ہوٹلوں، ریستورانوں وغیرہ کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔ ہم ہائی رسک کیٹیگری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ محکمے نے فائیو اسٹار اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کا فرنویس کو خط، قبائلی طلبہ کے مسائل پرتوجہ دلائی، وزیر اشوک اوئیکے کی غلط بیانی
منڈے نے بتایا کہ ۲۵ مئی کو شروع ہونے والے ایف ڈی اے کے ریاست گیر فوڈ سیفٹی کریک ڈاؤن کے تحت اب تک ۳۱۰۰ سے زائد فوڈ بزنس آپریٹرز اور ڈرگ سیکٹر کے تقریباً ۱۰۰ اداروں کا معائنہ کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں ۱۶۵ لائسنس معطل کئے گئے اور تقریباً ۴۵۰ بہتری کے نوٹسز جاری کئے گئے۔ اس موقع پر منڈے نے یہ بھی بتایا کہ اپنے مصروف نفاذی شیڈول کے باوجود، ہمالیہ میں ٹریکنگ کرنا اور مطالعہ کرنا ان کے ذاتی مشاغل میں شامل ہیں۔