گزشتہ دنوں کانگریس لیڈر راہل گاندھی ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں شرکت کیلئےپونے آئے تھے جہاں کچھ قبائلی طالبات نے ان سے ملاقات کرکے انہیں ۴؍ صفحات پر مشتمل ایک مکتوب دیا تھا جس میں ناگپور میں جاری قبایلی طلبہ کے احتجاج اور ان کے مسائل پر آواز اٹھانےکی گزارش کی گئی تھی۔
راہل گاندھی کے خط کے بعد کارروائی!۔ تصویر: آئی این این
گزشتہ دنوں کانگریس لیڈر راہل گاندھی ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں شرکت کیلئےپونے آئے تھے جہاں کچھ قبائلی طالبات نے ان سے ملاقات کرکے انہیں ۴؍ صفحات پر مشتمل ایک مکتوب دیا تھا جس میں ناگپور میں جاری قبایلی طلبہ کے احتجاج اور ان کے مسائل پر آواز اٹھانےکی گزارش کی گئی تھی۔ راہل گاندھی نے ان شکایت کی بنا پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک خط لکھا جس کے بعد ریاست میں ایک بار پھر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لفظی نوک جھونک شروع ہو گئی ہے۔فرنویس نے راہل کے خط کے بعد قبائلی ہوسٹل کیلئے مقرر کی گئی ۳۰؍ سال کی حد کو ختم کر دیا ہے لیکن وزیر برائے قبائلی ترقی اشوک اوئیکے نے راہل گاندھی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ جواب میں کانگریس لیڈران نے بھی اشوک اوئیکے کی خبر لی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’راجستھان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو فوراً ہٹائیں‘‘
یاد رہے کہ گزشتہ ۱۴؍ اگست سے ناگپور میں قبائلی طلبہ ہوسٹل کے قواعد میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔ ۲۱؍ اگست کو جب راہل گاندھی پونے آئے تو کچھ قبائلی طالبات نے انہیں ایک مکتوب دے کر ان کے مسائل کیلئے آواز اٹھانے کی درخواست کی۔ راہل گاندھی نے گزشتہ پیر کو دیویندر فرنویس کے نام سوشل میڈیا پر ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ کی توجہ قبائلی طلبہ کے مسائل کی طرف مبذول کروائی۔ راہل نے لکھا کہ ہوسٹل میں قیام کرنے کیلئے طلبہ کی عمر کی حد ۳۰؍سال مقرر کرنا ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ پڑھ کر حیران رہ گیا کہ جب طالبات طویل رخصت پر جاتی ہیں تو لوٹنے کے بعد انہیں پریگننسی ٹیسٹ ( حمل کی جانچ) کروانی پڑتی ہے۔ یہ ان کے وقار پر حملہ ہے۔ راہل گاندھی نے اور بھی بہت سے مسائل کی جانب وزیر اعلیٰ کی توجہ دلائی۔ اسی دوران حکومت میں ہوسٹل کے طلبہ کیلئے عمر کی حد کو ختم کر دیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسا راہل گاندھی کے خط کے بعد ہی کیا گیا لیکن اس کے بعد وزیر برائے قبائلی ترقی اشوک اوئیکے راہل گاندھی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ساؤجی ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی، لائسنس معطل
انہوں نے ایکس پر لکھا ’’ قبائلی طلبہ نے راہل گاندھی کے دورے سے پہلے ہی اپنا احتجاج ختم کر دیا ، راہل جی آپ نے ہمیشہ کی طرح دیر کر دی۔ حکومت نے طلبہ کے مطالبے کے بعد عمر کی حد ختم کر دی ہے ‘‘ اوئیکے نے لکھا ’’پریگننسی ٹیسٹ کی بات بے بنیاد ہے۔ ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا البتہ طلبہ کو فٹ نس ٹیسٹ دینا پڑتا ہے ، یہ ان کی صحت کی فکر کے تحت کیا جاتا ہے۔‘‘ اوئیکے نے یہ الزام بھی لگایا کہ ’’ اکثر قبائلی ہوسٹل کانگریس لیڈران چلا رہے ہیں۔ میں اس بات کو یقینی بنائوں گا کہ ہر وہ ہوسٹل جہاں کوئی ناہمواری دکھائی دیتی ہو اس کی جانچ کی جائے اور خاطیوں کو سزا دی جائے۔‘‘ یاد رہے اشوک اوئیکے کی یہ بات غلط ہے کہ طلبہ کا احتجاج ختم ہو چکا ہے۔ عمر کی حد ختم کرنے کے بعد بھی طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ تمام مطالبات تسلیم نہیں ہوجاتے تب تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں عارضی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان اتفاق
اوئیکے کےبیان پر کانگریس لیڈروجے وڈیٹیوار نے کہا ہے’’ جب قبائلی طلبہ اپنے مسائل لے کر اشوک اوئیکے کے پاس گئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ یہ پورا معاملہ وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہوسٹل کیلئے طلبہ کے عمر کی حد اسی وقت ختم کی گئی جب راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا۔ اگر طلبہ کے دیگر مطالبات بھی جلد تسلیم نہ کئے گئے تو ہم وزیر برائے قبائلی ترقی کا استعفیٰ مانگیں گے۔ ‘‘ این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب جا کر طلبہ سے گفتگو کرنی شروع کی ہے۔ اگر قبائلی طلبہ کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی تو اس حکومت کو قائم رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وزیر برائے قبائلی ترقی کو اپنے عہدے سے فوراً استعفیٰ دیدینا چاہئے۔