• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی دنیا کا پانچواں اور ملک کا سب سے آلودہ شہر قرار، اے کیو آئی۱۵۲؍ کے قریب

Updated: October 16, 2026, 7:49 PM IST | Mumbai

مانسون میں کم بارش اور غیر معمولی گرم و مرطوب موسم کے درمیان ممبئی دنیا کا پانچواں اور ہندوستان کا سب سے آلودہ شہر قرار پایا ہے۔ آئی کیو ایئر کے مطابق شہر کا اے کیو آئی ۱۵۲؍ رہا، تاہم مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار میں فضائی معیار نسبتاً بہتر درج کیا گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

عالمی فضائی معیار کا جائزہ لینے والے ادارے آئی کیو ایئر (iQAir) کے مطابق، ممبئی دنیا کا پانچواں سب سے آلودہ اور ہندوستان کا سب سے آلودہ شہر بن گیا ہے۔ شہر میں مانسون کے دوران معمول سے کم بارش کے بعد غیر معمولی طور پر گرم اور مرطوب موسم کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ میں قائم فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والی تنظیم آئی کیو ایئر کے مطابق، جمعرات کو ممبئی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) ۱۵۲؍ ریکارڈ کیا گیا، جسے صحت کیلئے غیر صحت بخش زمرے میں رکھا گیا ہے۔ زمینی سطح پر موجود اوزون (O3) کو آلودگی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست کے۲؍کروڑ۱۰؍ لاکھ طلبہ کیلئے اسکاؤٹ گائیڈ کی تربیت لازمی قرار دی گئی

فضائی آلودگی میں یہ اضافہ مانسون کے معمول سے پہلے اختتام کے بعد درجہ حرارت میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس ماہ ممبئی میں تین مرتبہ گزشتہ کم از کم ایک دہائی کے گرم ترین دن ریکارڈ کئے گئے، جبکہ کئی دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے۴؍ سے۵؍ ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc) کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز (NIAS) کے چیئر پروفیسر اور ماحولیاتی سائنس داں غفران بیگ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس سال ممبئی میں ایل نینو جیسی موسمی صورت حال کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ہوا کی رفتار بہت زیادہ سست ہوگئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر موسم گرم اور مرطوب ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس صورت حال کی وجہ سے ہوا کی گردش متاثر ہو رہی ہے اور آلودگی کے ذرات فضا کی نچلی تہوں میں جمع ہو رہے ہیں، جس سے آلودگی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غیرقانونی تعمیرات کے خلاف پنویل میونسپل کارپوریشن کی اپنی حدود میں بڑی کارروائی

بتا دیں کہ ایل نینو ایک موسمیاتی مظہر ہے جس میں بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب وسطی اور مشرقی حصوں کی سطحی سمندری آب غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتی ہے۔ اس کے موسمی اثرات مختلف علاقوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ فضا کی بالائی سطح پر موجود اوزون کی حفاظتی تہہ کے برعکس، زمینی سطح کا اوزون ایک آلودہ مادہ ہے۔ یہ اس وقت بنتا ہے جب نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی کی موجودگی میں کیمیائی عمل سے گزرتے ہیں۔ گرم اور دھوپ والے موسم میں اس کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ آئی کیو ایئر کی فہرست میں دنیا کے۱۲۲؍ شہر شامل تھے۔ ممبئی کے بعد نئی دہلی چھٹے مقام پر رہا، جہاں اے کیو آئی ۱۵۱؍ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کولکاتا۱۲۴؍ کے اے کیو آئی کے ساتھ دسویں مقام پر رہا۔

یہ بھی پڑھئے: انجمن خیرالاسلام گرلزہائی اسکول میں یومِ ترغیب مطالعہ پرکتب بینی کی خصوصی کلاسیز

’اطمینان بخش‘ فضائی معیار
تاہم، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے ڈیش بورڈ پر ممبئی کی فضائی آلودگی سے متعلق اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ بورڈ کے مطابق، شہر کا اے کیو آئی۹۸؍ تھا، جسے ’اطمینان بخش‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ممبئی میں فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے۲۳؍ اسٹیشن کام کر رہے ہیں، جن میں سے۱۲؍ نے اطمینان بخش فضائی معیار ریکارڈ کیا۔ دیو نار میں اے کیو آئی۱۵۶؍ریکارڈ کیا گیا جبکہ باندرہ کرلا کمپلیکس میں یہ۱۴۵؍ اور بھانڈوپ کے کھنڈی پاڑا علاقے میں ۱۲۹؍ رہا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے ان علاقوں میں پی ایم۵ء۲؍اور پی ایم۱۰؍ کو آلودگی کے اہم اسباب قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: گرمی سے دوچار کچھ اضلاع کیلئے راحت بخش خبر

مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ (MPCB) کے ایک افسر نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر دیو نار میں کچرا یا پلاسٹک جلایا جا رہا ہے تو وہاں کی آلودہ ہوا صرف اسی علاقے تک محدود نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ دیو نار کے قریب واقع چیمبور اور کرلا جیسے علاقوں میں بھی غیر صحت بخش اے کیو آئی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ہوا آلودگی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی اور پھیلاتی رہتی ہے۔ ‘‘ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) نے شہر کے تمام۲۶؍ وارڈوں کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کریں اور ان سے نمٹنے کیلئے مقامی سطح پر ضروری اقدامات نافذ کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK